Surah Al Maidah Ayat 94 (5:94)
The Table Spread · Juz 7 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِۚ-فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 94
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! ضرور اللہ ان شکاروں کے ذریعے جن تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچ سکیں گے تمہارا امتحان کرے گا تاکہ اللہ ان لوگوں کی پہچان کرادے جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں پھر اس (ممانعت) کے بعد جو حد سے بڑھے تواس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا ایسے بعض شکار سے جس تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہونچیں کہ اللہ پہچان کرا دے ان کی جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں پھر اس کے بعد جو حد سے بڑھے اس کے لئے دردناک سزا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ لیبلونكم الله:ضرور اللہ تمہیں ازمائے گا۔} 6 ہجری جس میں حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا اس سال مسلمان حالت احرام میں تھے۔اس حالت میں وہ اس آزمائش میں ڈالے گئے کہ شکار کئے جانے والے جانور اور پرندے بڑی کثرت سے آئے اور ان کی سواریوں پر چھا گئے۔ اتنی کثرت تھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کیلئے انہیں ہتھیار سے شکار کرلینا بلکہ ہاتھ سے پکڑ لینا بالکل اختیا رمیں تھا اس کے متعلق اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی (خازن المائدۃ تحت الایۃ: ۹۴ ۱ / ۵۲۵) لیکن صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم حکم الہی کی پابندی میں ثابت قدم رہے اور حالت احرام میں شکار نہ کیا۔ اس سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی عظمت بھی ظاہر ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی گناہ کے اسباب و مواقع جس قدر کثرت سے موجود ہوں ان سے بچنے میں اتنا ہی زیادہ ثواب ہے جیسے نوجوان کو تقوی و پرہیزگاری اور پارسائی کا ثواب بوڑھے کی بنسبت زیادہ ہے۔ یونہی جو برے لوگوں کے درمیان بھی نیک رہے وہ نیکوں کے درمیان نیک رہنے والے سے بہتر ہے۔ حضرت سیدنا یوسف علیہ الصلوۃوالسلام اور زلیخا کا واقعہ بھی اس بات کی قوی دلیل ہے لیکن یہاں یہ یاد رہے کہ ان باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ برے دوستوں کی صحبت میں رہ کریا گناہ کی جگہ جاکر نیک بننے کی کوشش کرے تاکہ زیادہ بڑا متقی بنے بلکہ حتی الامکان ایسی صحبت اور مقام سے بچنا ہی چاہیے کہ زیادہ تقوی کی امید پر کہیں اصل ہی سے نہ جاتے رہیں۔