Surah Al Maidah Ayat 93 (5:93)
The Table Spread · Juz 7 · Madani
لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ 93
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان پر کھانے میں کوئی گناہ نہیں جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور اچھے عمل کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیکیاں کریں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں ہے جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ لیس على الذین امنوا و عملوا الصلحت جناح : جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان پرکوئی گناہ نہیں۔} یہ آیت مبارکہ ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے حق میں نازل ہوئی جو شراب حرام کئے جانے سے پہلے وفات پاچکے تھے اور چونکہ شراب حرام نہ تھی تو وہ پی لیا کرتے تھے۔ جب ان کے بعد شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو ان کی فکر ہوئی کہ ان سے شراب کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی یا نہیں ( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المائدۃ ۵ / ۳۸ الحدیث: ۳۰۶۲)نیز جوصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم دیگر شہروں میں موجود ہیں اور انہیں اس بات کا علم ابھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالی نے شراب حرام قرار دے دی ہے اگر وہ اس لاعلمی کے کچھ عرصہ میں شراب پی لیں تو ان کے بارے میں کیا حکم ہے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے جن نیک ایمانداروں نے کچھ کھایا پیا وہ گنہگار نہیں اسی طرح جنہیں حرمت کا حکم نازل ہو جانے کا علم نہیں ان پر بھی حکم کی معلومات ہونے سے پہلے شراب پی لینے کی صورت میں کچھ گناہ نہیں۔ اس ایت مبارکہ میں لفظ ’’اتقوا‘‘جس کے معنی ڈرنے اور پرہیز کرنے کے ہیں تین مرتبہ آیا ہے: پہلے سے مراد شرک سے بچنا دوسرے سے مراد تمام حرام کاموں اور گناہوں سے بچنا اور تیسرے سے مراد شبہات کا ترک کر دینا ہے۔( مدارک المائدۃ تحت الایۃ: ۹۳ ص۳۰۲) بعض مفسرین نے فرمایا کہ پہلے سے مراد تمام حرام چیزوں سے بچنا اور دوسرے سے اس پر قائم رہنا اور تیسرے سے مراد وحی کے نازل ہونے کے زمانے میں یا اس کے بعد جو چیزیں منع کی جائیں ان کو چھوڑ دینا ہے۔(خازن المائدۃ تحت الایۃ: ۹۳ ۱ / ۵۲۵ مدارک المائدۃ تحت الایۃ: ۹۳ ص۳۰۳ جمل المائدۃ تحت الایۃ: ۹۳ ۲ / ۲۷۳) بعض مفسرین نے یہ معنی بیان کیا کہ پہلے بھی گناہوں سے بچتے رہے ہوں اور اب بھی بچتے رہیں اور ائندہ بھی بچتے رہیں۔( تفسیرکبیر المائدۃ تحت الایۃ: ۹۳ ۴ / ۴۲۷)