Surah Qaf Ayat 20 (50:20)
The Letter Qaf · Juz 26 · Makki
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ 20
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور صُور میں پھونک ماری جائے گی ،یہ عذاب کی وعید کادن ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور صُور پھونکا گیایہ ہے وعدۂ عذاب کا دن۔
Tafseer (Urdu)
{و نفخ فی الصور: اور صور میں پھونک ماری جائے گی۔} موت کا ذکر کرنے کے بعد اب یہاں سے قیامت واقع ہونے کا ذکر کیا جا رہا ہے چنانچہ ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن دوسری بار صور میں پھونک ماری جائے گی تاکہ مرجانے والے دوبارہ زندہ ہو جائیں (اور اس وقت فرمایا جائے گا) یہ وہ دن ہے جس میں کافروں کو عذاب دینے کا اللہ تعالی نے ان سے وعدہ فرمایا تھا۔( خازن ق تحت الایۃ: ۲۰ ۴ / ۱۷۶) {و جآءت كل نفس: اور ہر جان حاضر ہوگی۔} یہاں سے قیامت کے ہولناک واقعات اور حالات بیان کئے جا رہے ہیں چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر جان یوں حاضر ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ چلانے والا ہوگا جواسے میدان محشر کی طرف ہانکے گا اور ایک گواہ ہوگا جو اس کے عملوں کی گواہی دے گا۔ یہاں ایت میں ہانکنے والے اور گواہ سے مراد کون ہے اس کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : ہانکنے والا فرشتہ ہوگا اور گواہ خود اس کا اپنا نفس ہو گا۔امام ضحاک کا قول ہے کہ ہانکنے والا فرشتہ ہے اور گواہ اپنے بدن کے اعضاء ہاتھ پائوں وغیرہ ہوں گے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے برسر منبر فرمایا کہ ’’ہانکنے والا بھی فرشتہ ہے اور گواہ بھی فرشتہ ہے۔( خازن ق تحت الایۃ: ۲۱ ۴ / ۱۷۶ جمل ق تحت الایۃ: ۲۱ ۷ / ۲۶۵ ملتقطا) {لقد كنت فی غفلة من هذا: بیشک تو اس سے غفلت میں تھا۔} یعنی قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا:بیشک تو دنیا میں اس قیامت کا منکر تھا تو اج ہم نے تجھ سے وہ پردہ اٹھادیا جو تیرے دل کانوں اور آنکھوں پر پڑا ہواتھا اور اس کی وجہ سے آج تیری نگاہ تیز ہے کہ تو ان چیزوں کو دیکھ رہا ہے جن کا دنیا میں انکار کرتا تھا۔( خازن ق تحت الایۃ: ۲۲ ۴ / ۱۷۷)