Surah Az Zariyat Ayat 1 (51:1)
The Winnowing Winds · Juz 26 · Makki
وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبکھیر کر اڑادینے والیوں کی قسم۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanقسم ان کی جو بکھیر کر اُڑانے والیاں ۔
Tafseer (Urdu)
{و الذریت ذروا: خاک وغیرہ کو بکھیر کر اڑادینے والی ہواوں کی قسم۔} اس ایت اور اس کے بعد والی تین ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس ایت میں خاک وغیرہ کو بکھیر کر اڑادینے والی ہواوں کی قسم ارشاد فرمائی دوسری ایت میں بارش کے پانی کا بوجھ اٹھانے والی بدلیوں اور گھٹاوں کی قسم ارشاد فرمائیتیسری ایت میں پانی پر اسانی کے ساتھ چلنے والی کشتیوں کی قسم ارشاد فرمائی اور چوتھی ایت میں فرشتوں کی ان جماعتوں کی قسم ارشاد فرمائی جو اللہ تعالی کے حکم سے بارش اور رزق وغیرہ تقسیم کرتی ہیں اور جنہیں اللہ تعالی نے کائنات کا نظام چلانے پر مامور کیا ہے اور عالم کے نظام میں تصرف کرنے کا اختیار عطا فرمایا ہے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہ تمام صفتیں ہوائوں کی ہیں کہ وہ خاک بھی اڑاتی ہیں بادلوں کو بھی اٹھائے پھرتی ہیں پھر انہیں لے کرسہولت کے ساتھ چلتی ہیں پھر اللہ تعالی کے شہروں میں اس کے حکم سے بارش کو تقسیم کرتی ہیں ۔ یاد رہے کہ ان چیزوں کی قسم ارشاد فرمانے کا اصلی مقصود اس چیز کی عظمت بیان کرنا ہے جس کے ساتھ قسم ارشاد فرمائی گئی کیونکہ یہ چیزیں اللہ تعالی کی قدرت کے کمال پر دلا لت کرنے والی ہیں اور ان چیزوں کو بیان فرما کر ارباب دانش کو موقع دیا جارہا ہے کہ وہ ان میں غور کرکے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اخرت میں اعمال کی جزا ملنے پر استدلال کریں کہ جو قادر برحق ایسے عجیب و غریب امور پر قدرت رکھتا ہے تو وہ اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کو فنا کرنے کے بعد دوبارہ ہستی عطا فرمانے پر بھی بے شک قادر ہے۔( خازن الذاریات تحت الایۃ: ۱-۴ ۴ / ۱۸۰ جمل الذاریات تحت الایۃ: ۱-۴ ۷ / ۲۷۶-۲۷۷ ملتقطا)