Surah At Tur Ayat 1 (52:1)
The Mount · Juz 27 · Makki
وَ الطُّوْرِ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariطور کی قسم۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanطور کی قسم۔
Tafseer (Urdu)
{ و الطور: طور کی قسم۔} یعنی اس پہاڑکی قسم جس پر اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو کلام الہی سننے کا شرف عطا فرمایا۔ (جلالین الطور تحت الایۃ: ۱ ص۴۳۵) اس پہاڑ کویہ عظمت اس لئے حاصل ہوئی کہ وہاں کلام الہی سنا گیا اوراسے اللہ تعالی کے پیارے نبی حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے نسبت حاصل ہے اس سے معلوم ہوا کہ جس پتھر اور پہاڑ کو اللہ تعالی کے نبی سے نسبت ہو جائے وہ بھی عظمت والا ہو جاتا ہے۔ { و كتب مسطور: اور لکھی ہوئی کتاب کی قسم۔} لکھی ہوئی کتاب کے مصداق کے بارے میں مفسرین کے مختلف قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ اس کتاب سے مراد توریت ہے۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے دفتر مراد ہیں اوراس کی نظیریہ ایت مبارکہ ہے: ’’و كل انسان الزمنه طىره فی عنقه-و نخر ج له یوم القیمة كتبا یلقىه منشورا‘‘(بنی اسرائیل:۱۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے میں لگادی ہے اورہم اس کیلئے قیامت کے دن ایک نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ لکھی ہوئی کتاب سے مراد قران پاک ہے۔(خازن الطور تحت الایۃ: ۳ ۴ / ۱۸۶ روح البیان الطور تحت الایۃ: ۲ ۹ / ۱۸۵ ملتقطا) { و البیت المعمور: اور بیت معمورکی قسم۔} بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل اوپرہے ۔اسمانوں میں اس کی حرمت ایسے ہی ہے جیسے زمین پر کعبہ معظمہ کی حرمت ہے۔یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے اورہر روز ستر ہزار فرشتے اس میں طواف اور نماز کے لئے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں واپس یہاں انے کا موقع نہیں ملتا بلکہ ہر روز نئے ستر ہزار فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔( خازن الطور تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۱۸۶) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بیت المعمور کو ملاحظہ فرمایا: حدیث معراج میں صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے معراج کی رات ساتویں آسمان میں بیت المعمور کو ملاحظہ فرمایا تھاچنانچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہےسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’پھر میرے لئے بیت المعمور ظاہر فرمایا گیا میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا :یہ بیت المعمور ہےاس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں جب وہ پڑھ کر نکل جاتے ہیں تو ان کی پھر کبھی باری نہیں اتی۔( بخاریکتاب بدء الخلقباب ذکر الملائکۃ۲ / ۳۸۰الحدیث: ۳۲۰۷ مسلم کتاب الایمان باب الاسراء برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم السموات۔۔۔ الخ ص۱۰۱ الحدیث: ۲۶۴(۱۶۴)) { و السقف المرفوع: اور بلندکی ہوئی چھت کی قسم۔} اس چھت سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لئے چھت کی طرح ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ اس سے مراد عرش ہے جو جنت کی چھت ہے۔(قرطبی الطور تحت الایۃ: ۵ ۹ / ۴۶ الجزء السابع عشر) {و البحر المسجور: اور بھڑکائے جانے والے سمندر کی قسم!} مروی ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن تمام سمندروں کو آگ کردے گا جس سے جہنم کی آگ میں اور بھی زیادتی ہوجائے گی۔(خازن الطور تحت الایۃ: ۶ ۴ / ۱۸۶)