Surah At Tur Ayat 7 (52:7)
The Mount · Juz 27 · Makki
اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ ان عذاب ربك: بیشک تیرے رب کا عذاب۔} اس ایت اور اس کے بعدوالی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان تما م چیزوں کی قسم فرما کر اپنی قدرت کی عظمت کا اظہار فرمایا اور ارشاد فرمایاکہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کے رب عزوجل کا وہ عذاب جس کا کفار کو وعدہ دیا گیا ہے اخرت میں ضرور واقع ہونے والا ہے اور کوئی اسے ٹال دینے کی قدرت نہیں رکھتا۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام قبول کرنے کا سبب: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں (اسلام قبول کرنے سے پہلے) میں مدینہ منورہ میں اس غرض سے حاضر ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں بات چیت کروں اس وقت اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور اپ کی تلاوت کی اواز مسجد سے باہر سنائی دے رہی تھیاپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سورہ والطور کی تلاوت فرمائی اور جب اس مقام پر پہنچے ’’ ان عذاب ربك لواقع(۷)ما له من دافع‘‘ تو ان ایات کوسن کر میرا دل ایسے ہو گیا جیسے ابھی پھٹ جائے گا اور مجھے ایسے لگا جیسے ابھی میرے یہاں سے ہٹنے سے پہلے ہی مجھ پر عذاب نازل ہو جائے گا چنانچہ میں نے عذاب نازل ہو جانے کے خوف سے اسی وقت ایمان قبول کر لیا۔( خازن الطور تحت الایۃ: ۸ ۴ / ۱۸۶-۱۸۷) ایت ’’ ان عذاب ربك لواقع‘‘ پڑھنے کے بعدحضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی کیفیت: حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ’’حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ ایت ’’ ان عذاب ربك لواقع‘‘ تلاوت فرمائی تو اپ کا سانس پھول گیا اور ا س کی وجہ سے بیس دن تک بار بار یہی کیفیت بنتی رہی۔( کنز العمال کتاب الفضائل فضائل الصحابۃ فضائل الفاروق رضی اللہ عنہ ۶ / ۲۶۴ الجزء الحادی عشر الحدیث: ۳۵۸۲۷) اس سے معلوم ہوا کہ قران مجید کی وہ ایات جن میں اللہ تعالی کے عذاب کا ذکر ہے ان کی تلاوت کرتے وقت اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرجانا ہمارے بزرگان دین کا طریقہ ہے لہذا ہمیں بھی چاہئے کہ ایسی ایات کی تلاوت کرتے وقت اپنے دل میں اللہ تعالی کے عذاب کا خوف پیدا کریں اور خود کو عذاب الہی سے ڈرائیں ۔