Surah An Najm Ayat 15 (53:15)
The Star · Juz 27 · Makki
عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىﭤ 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ جنة الماوى: جنت الماوی۔} یہ وہ جنت ہے جہاں حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام نے قیام فرمایا تھا اور اسی جنت سے اپ زمین پر تشریف لائے تھے ۔ (صاوی النجم تحت الایۃ: ۱۵ ۶ / ۲۰۴۸) { اذ یغشى السدرة: جب سدرہ پر چھا رہا تھا۔} یعنی سدرہ کو فرشتوں نے اور انوار نے گھیرا ہو اتھا۔( خازن النجم تحت الایۃ: ۱۶ ۴ / ۱۹۳) {ما زاغ البصر: آنکھ نہ کسی طرف پھری۔} یعنی اس دیدار کے وقت آنکھ نہ کسی طرف پھر ی اور نہ ادب کی حد سے بڑھی۔اس میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی قوت کے کمال کا اظہار ہے کہ اس مقام میں جہاں عقلیں حیرت زدہ ہیں آپ ثابت قدم رہے اور جس نور کا دیدار مقصود تھا اس سے بہر ہ اندوز ہوئے دائیں بائیں کسی طرف توجہ نہ فرمائی اور نہ مقصودکے دیدار سے آنکھ پھیری نہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح بے ہوش ہوئے بلکہ اس مقام میں ثابت رہے۔(جلالین النجم تحت الایۃ: ۱۷ ص۴۳۸ خازن النجم تحت الایۃ: ۱۷ ۴ / ۱۹۳ ملتقطا) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طاقت: اس سے معلوم ہوا کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طاقت حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی طاقت سے زیادہ ہے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام تجلی دیکھ کر بے ہوش ہو گئے اور حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اللہ تعالی کی ذات کو دیکھا تو نہ انکھ جھپکی نہ دل گھبرایا اور نہ ہی بے ہوش ہوئے۔ اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ اسی ایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نگاہ نبوت کا عالم بیان فرماتے ہیں : شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال دھوم والنجم میں ہے آپ کی بینائی کی