Surah Al Qamar Ayat 1 (54:1)
The Moon · Juz 27 · Makki
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariقیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپاس آئی قیامت اور شق ہوگیا چاند۔
Tafseer (Urdu)
{اقتربت الساعة: قیامت قریب اگئی۔} یعنی قیامت کے نزدیک ہونے کی نشانی ظاہر ہوگئی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے معجزہ سے چاند دو ٹکڑے ہو کر پھٹ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہونا جس کا اس آیت میں بیان ہے یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے روشن معجزات میں سے ہے ۔ (خازن القمر تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۲۰۱) اشارے سے چاند چیر دیا: صحاح ستہ کی کثیر احادیث میں اس عظیم معجزے کے مختلف پہلو بیان کئے گئے ہیں چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : اہل مکہ نے حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ایک معجزہ دکھانے کی درخواست کی تو حضورپر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے چاند ٹکڑے کرکے دکھایا۔( بخاریکتاب المناقبباب سوال المشرکین ان یریہم النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایۃ۔۔۔الخ۲ / ۵۱۱الحدیث:۳۶۳۷) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو کر پھٹا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا ٹکڑا اس کے نیچے تب رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا گواہ رہو۔( بخاری کتاب التفسیر سورۃ اقتربت الساعۃ القمر باب وانشق القمر۔۔۔ الخ ۳ / ۳۳۹ الحدیث: ۴۸۶۴) حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ’’جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے چاند دو ٹکڑے کر کے دکھایا تو کفار قریش نے کہا: محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) نے جادو سے ہماری نظر بند کردی ہے اس پر ان کی جماعت کے لوگوں نے کہا کہ اگر یہ ہماری نظر بندی ہے تو باہر کہیں بھی کسی کو چاند کے دو حصے نظر نہ آئے ہوں گے۔ اب جو قافلے آنے والے ہیں ان کی جستجورکھو اور مسافروں سے دریافت کرواگر دوسرے مقامات سے بھی چاند کا ٹکڑے ہونا دیکھا گیا ہے تو بے شک معجزہ ہے ۔چنانچہ سفر سے آنے والوں سے دریافت کیا توانہوں نے بیان کیا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اس روز چاند کے دوحصے ہوگئے تھے ۔( ترمذیکتاب التفسیرباب ومن سورۃ القمر۵ / ۱۸۹ الحدیث: ۳۳۰۰ جامع الاصول فی احادیث الرسول حرف النون الکتاب الاول الباب الخامس الفصل السابع ۱۱ / ۳۶۷ الحدیث: ۸۹۳۷)اب مشرکین کو انکار کی گنجائش نہ رہی لیکن وہ جاہلانہ طور پر اسے جادو ہی جادو کہتے رہے۔ ان کے علاوہ صحاح ستہ کی اوراحادیث میں بھی اس عظیم معجزے کا بیان ہے اوریہ خبر شہرت کے اس درجہ تک پہنچ گئی ہے کہ اس کا انکار کرنا عقل و انصاف سے دشمنی اور بے دینی ہے۔