Surah Al Qamar Ayat 36 (54:36)
The Moon · Juz 27 · Makki
وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک اس نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرامین میں شک کیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک اس نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرمانوں میں شک کیا۔
Tafseer (Urdu)
{ و لقد انذرهم بطشتنا: اور بیشک اس نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا۔} یعنی حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں ہماری گرفت اورہمارے عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرمانوں میں شک کیااور ان کی تصدیق کرنے کی بجائے انہیں جھٹلانے لگے۔( خازن القمر تحت الایۃ: ۳۶ ۴ / ۲۰۵) { و لقد راودوه عن ضیفه: انہوں نے اسے اس کے مہمانوں کے متعلق پھسلانا چاہا ۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت لوطعلیہ الصلوۃ والسلام کی قوم نے انہیں ان کے معزز مہمانوں کے متعلق پھسلانا چاہا اور حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا کہ آپ ہمارے اور اپنے مہمانوں کے درمیان د خل اندازی نہ کریں اور انہیں ہمارے حوالے کردیں ۔ حضرت لوطعلیہ الصلوۃ والسلام کی قوم نے یہ بات فاسد نیت اور خبیث ارادے سے کہی تھی۔حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان فرشتے تھے انہوں نے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا کہ آپ انہیں چھوڑ دیجئے اورگھر میں انے دیجئے ۔ جیسے ہی وہ گھر میں آئے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک دستک دی تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا جس سے وہ فورا اندھے ہوگئے اور ان کہ آنکھیں ایسی ناپید ہوگئیں کہ ان کا نشان بھی باقی نہ رہا اور چہرے سپاٹ ہوگئے ۔وہ لوگ حیرت زدہ مارے مارے پھرتے تھے اور دروازہ ان کے ہاتھ نہ آتا تھا حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں دروازے سے باہر کیا۔اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعے ان سے ارشاد فرمایا کہ میرے عذاب اور میرے ڈر کے فرمانوں کا مزہ چکھو جو تمہیں حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام نے سنائے تھے۔(خازن القمرتحت الایۃ:۳۷ ۴ / ۲۰۵ مدارک القمر تحت الایۃ: ۳۷ ص۱۱۸۹ جلالین القمر تحت الایۃ: ۳۷ ص۴۴۲ ملتقطا)