Surah Al Qamar Ayat 38 (54:38)
The Moon · Juz 27 · Makki
وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ 38
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک صبح سویرے ان پر ٹھہرنے والا عذاب آیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک صبح تڑکے ان پر ٹھہرنے والا عذاب آیا ۔
Tafseer (Urdu)
{ و لقد صبحهم بكرة: اور بیشک صبح سویرے ان پر ایا۔} ارشاد فرمایا کہ بے شک حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم پر صبح سویرے ٹھہرنے والا عذاب آیا جو کہ آخرت تک باقی رہے گا۔مراد یہ ہے کہ دنیوی عذاب برزخی عذاب سے اور برزخی عذاب اخروی عذاب سے ملا ہوا ہے لہذا نفس عذاب دائمی اور قائم ہے۔ اس ایت سے عذاب قبر کا ثبوت بھی ہوتا ہے کیونکہ اگر عذاب قبر حق نہ ہوتو ان کا عذاب مستقر یعنی ٹھہرنے والا نہیں رہتا۔ { فذوقوا عذابی و نذر: تومیرے عذاب اور میرے ڈر کے فرمانوں کا مزہ چکھو۔} دوسری بار یہ بات ا س لئے فرمائی گئی کہ ان پر عذاب دو مرتبہ نازل ہوا تھا پہلا عذاب خاص ان لوگوں پر ہو اتھا جو حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں داخل ہوئے تھے اور دوسرا عذاب سب کو عام تھا۔( تفسیر کبیر القمر تحت الایۃ: ۳۹ ۱۰ / ۳۱۸ ملخصا)