Surah Ar Rahman Ayat 1 (55:1)
The Beneficent · Juz 27 · Makki
اَلرَّحْمٰنُ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariرحمٰن نے
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanرحمٰن نے۔
Tafseer (Urdu)
{الرحمن: رحمن۔} اس ایت کے شان نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ جب سورہ فرقان کی ایت نمبر60 نازل ہوئی جس میں رحمن کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا توکفار مکہ نے کہا کہ رحمن کیا ہے ہم نہیں جانتے اس پر اللہ تعالی نے سورۃ الرحمن نازل فرمائی کہ رحمن جس کا تم انکار کرتے ہو وہی ہے جس نے قرآن نازل فرمایا ۔اور ایک قول یہ ہے کہ اہل مکہ نے جب کہا کہ محمد (مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کو کوئی بشر سکھاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا کہ رحمن نے قرآن اپنے حبیب محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو سکھایا۔ (خازن الرحمن تحت الایۃ: ۱-۲ ۴ / ۲۰۸ملخصا) سورہ رحمن کی ایت نمبر1اور 2سے حاصل ہونے والی معلومات: اس معنی کے اعتبار سے ان ایات سے 5باتیں معلوم ہوئیں (1)…قران پاک اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اسی لئے سب سے پہلے اس کا ذکر فرمایا۔ (2)… حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس قران پاک بظاہر حضرت جبریل علیہ السلام کے واسطے سے ایا لیکن در حقیقت اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو قران سکھایا ۔ (3)…مخلوق میں سے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا کوئی استاد نہیں بلکہ اپ کا علم مخلوق کے واسطے کے بغیر اللہ تعالی کی عطا سے ہے۔ (4)… حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو قران پاک کے متشابہات کا علم بھی دیا گیا ہے کیونکہ جب اللہ تعالی نے سارا قران اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو سکھادیا تو اس میں متشابہات کا علم بھی اگیا کہ یہ بھی قران پاک کا حصہ ہی ہیں۔ (5)…اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام اشیاء کے نام سکھائےجیساکہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’و علم ادم الاسمآء كلها‘‘(بقرہ:۳۱) ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ تعالی نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے۔ حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کو زرہ بنانا سکھائی چنانچہ ارشاد فرمایا: ’’و علمنه صنعة لبوس لكم‘‘(انبیاء:۸۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے تمہارے فائدے کیلئے اسے (جنگی) لباس کی صنعت سکھا دی۔ حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کو پرندوں کی زبان سکھائی جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے ا س کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’ یایها الناس علمنا منطق الطیر‘‘(نمل:۱۶) ترجمہ کنزالعرفان: اے لوگو!ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو طب تورات اور انجیل کا علم عطا فرمایا ارشادباری تعالی ہے: ’’و یعلمه الكتب و الحكمة و التورىة و الانجیل‘‘(ال عمران:۴۸) ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ اسے کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائے گا۔ حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام کو علم لدنی عطا فرمایاچنانچہ ارشاد فرمایا: ’’و علمنه من لدنا علما‘‘(کہف:۶۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور اسے اپنا علم لدنی عطا فرمایا۔ اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو جو کچھ سکھایا اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ’’ الرحمن(۱) علم القران‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: رحمن نے قرآن سکھایا۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’و انك لتلقى القران من لدن حكیم علیم‘‘(نمل:۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور (اے محبوب!) بیشک اپ کو حکمت والے علم والے کی طرف سے قرآن سکھایا جاتا ہے۔ اور ایک جگہ واضح طور پر فرمادیا کہ ’’و علمك ما لم تكن تعلم‘‘(النساء:۱۱۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور اپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو اپ نہ جانتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاعلم تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام بلکہ تمام مخلوق سے زیادہ ہے۔