Surah Ar Rahman Ayat 19 (55:19)
The Beneficent · Juz 27 · Makki
مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس نے دو سمندر بہائے کہ دونوں ملے ہوئے (لگتے) ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس نے دو سمندر بہائے کہ دیکھنے میں معلوم ہوں ملے ہوئے۔
Tafseer (Urdu)
{مرج البحرین: اس نے دو سمندر بہائے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے میٹھے اور کھاری دو ایسے سمندر بہائے کہ دیکھنے میں ان کی سطح اپس میں ملی ہوئی لگتی ہے کیونکہ ان کے درمیان فاصلہ کرنے کے لئے ظاہری طور پر کوئی چیز حائل نہیں لیکن اللہ تعالی کی قدرت سے ان کے درمیان ایک اڑ ہے جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی طرف بڑھ نہیں سکتے بلکہ ہر ایک اپنی حد پر رہتا ہے اور دونوں میں سے کسی کا ذائقہ بھی تبدیل نہیں ہوتا حالانکہ پانی کی خاصیت یہ ہے کہ وہ دوسرے پانی میں فورا مل جاتا ہے اور ا س کا ذائقہ بھی تبدیل کر دیتا ہے۔ میٹھے اور کھاری سمندروں کا ذکر: ان سمندروں کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’و هو الذی مرج البحرین هذا عذب فرات و هذا ملح اجاج-و جعل بینهما برزخا و حجرا محجورا‘‘(فرقان:۵۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا دیا (ان میں ) یہ (ایک) میٹھا نہایت شیریں ہے اور یہ (ایک) کھاری نہایت تلخ ہے اور ان کے بیچ میں اس نے ایک پردہ اور روکی ہوئی آڑ بنادی۔ اور ارشاد فرمایا: ’’و ما یستوی البحرن ﳓ هذا عذب فرات سآىغ شرابه و هذا ملح اجاج-و من كل تاكلون لحما طریا و تستخرجون حلیة تلبسونها-و ترى الفلك فیه مواخر لتبتغوا من فضله و لعلكم تشكرون‘‘(فاطر:۱۲) ترجمہ کنزالعرفان: اور دونوں سمندر برابر نہیں (ان میں سے ایک) یہ میٹھا خوب میٹھا ہے اس کا پانی خوشگوارہے اور یہ (دوسرا) نمکین بہت کڑوا ہے اور (ان دونوں سمندروں میں سے) ہر ایک سے تم (مچھلی کا) تازہ گوشت کھاتے ہو اور وہ زیور (قیمتی موتی) نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو اور تو کشتیوں کو اس میں پانی کو چیرتے ہوئے دیکھے گا تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔ {فبای الآء ربكما تكذبن: توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے} یعنی اے جن و انسان کے گروہ! اللہ تعالی نے میٹھے اور کھاری دو سمندر بہا کر اور ان میں تمہارے پہننے کا زیور رکھ کر تم پر جوا نعام کیا تم ان نعمتوں میں سے اپنے رب عزوجل کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے( تفسیر طبری الرحمن تحت الایۃ: ۲۱ ۱۱ / ۵۸۸) {فبای الآء ربكما تكذبن: توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!اللہ تعالی نے تمہارے لئے ان سمندروں میں منافع پیدا فرما کر تم پر جو انعام کیا تم ان نعمتوں میں سے اپنے رب عزوجل کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے( تفسیر طبری الرحمن تحت الایۃ: ۲۳ ۱۱ / ۵۹۰)