Surah Ar Rahman Ayat 29 (55:29)
The Beneficent · Juz 27 · Makki
یَسْــٴَـلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اسی کے سوالی ہیں ، وہ ہر دن کسی کام میں ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں اُسے ہر دن ایک کام ہے۔
Tafseer (Urdu)
{یســٴـله من فی السموت و الارض: آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اسی کے سوالی ہیں ۔} یعنی اسمانوں میں رہنے والے فرشتے ہوں یا زمین پر بسنے والے جن انسان یا اور کوئی مخلوق الغرض کوئی بھی اللہ تعالی سے بے نیاز نہیں بلکہ سب کے سب اس کے فضل کے محتاج ہیں اور زبان حال اورقال سے اسی کی بارگاہ کے سوالی ہیں ۔اس میں اللہ تعالی کی قدرت کے کمال کی طرف اشارہ ہے کہ ہر مخلوق چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو وہ اپنی ضروریات کو ازخود پورا کرنے سے عاجز ہے اور اللہ تعالی کی محتاج ہے۔( خازن الرحمن تحت الایۃ: ۲۹ ۴ / ۲۱۱ جلالین الرحمن تحت الایۃ: ۲۹ ص۴۴۴ ملتقطا) {كل یوم هو فی شان: وہ ہر دن کسی کام میں ہے۔} اس ایت کے شان نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے رد میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اللہ تعالی ہفتے کے دن کوئی کام نہیں کرتاچنانچہ اس ایت میں ان کے قول کا باطل ہونا ظاہر فرمایا گیا ۔ اس ایت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی ہر وقت اپنی قدرت کے آثار ظاہر فرماتا ہے کسی کو روزی دیتا ہے کسی کو مارتا ہے اور کسی کو زندہ کرتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے اورکسی کو ذلت میں مبتلا کر دیتا ہے کسی کو مالدار کرتا ہے اور کسی کو محتاج کسی کے گناہ بخشتا ہے اور کسی کی تکلیف دور کرتا ہے۔( جلالین الرحمن تحت الایۃ: ۲۹ ص۴۴۴ خازن الرحمن تحت الایۃ: ۲۹ ۴ / ۲۱۱ ملتقطا) یہاں اسی سے متعلق دو احادیث اور ایک حکایت ملاحظہ ہو (1)…حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس ایت ’’ كل یوم هو فی شان‘‘کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ : ’’اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ وہ گناہ بخشتا ہے مصائب و الام دور کرتا ہےکسی قوم کو بلندی عطا فرماتا ہے اور کسی قوم کو پستی سے دوچار کر دیتا ہے۔( ابن ماجہ کتاب السنۃ باب فیما انکرت الجہمیۃ ۱ / ۱۳۳ الحدیث: ۲۰۲) (2)…حضرت عبید بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ سے اس ایت ’’ كل یوم هو فی شان‘‘ کے بارے میں مروی ہے ’’اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ وہ پریشان حال کی پریشانی دور کرتا ہےدعاکرنے والے کی دعا قبول فرماتا ہے مریض کو شفا دیتا ہے اور مانگنے والے کو عطا کرتا ہے۔( مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الزہد کلام عبید بن عمیر ۸ / ۲۲۸ الحدیث: ۹) منقول ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیت کے معنی دریافت کئے تو اس نے ایک دن کی مہلت چاہی اور انتہائی پریشان و غمزدہ ہو کر اپنے مکان پر چلا آیا۔ اس کے ایک حبشی غلام نے وزیر کو پریشان دیکھ کر کہا: اے میرے آقا !آپ کو کیا مصیبت پیش آئی ہے بیان توکیجئے ۔جب وزیر نے ساری بات ا س کے سامنے بیان کر دی تو غلام نے کہا’’میں اس کے معنی بادشاہ کو سمجھادوں گا۔ وزیر نے اس حبشی غلام کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا تو غلام نے کہا: اے بادشاہ! اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں مردے سے زندہ نکالتا ہے اور زندے سے مردہ بیمار کو تندرستی دیتا ہے اور تندرست کو بیمار کرتا ہے مصیبت زدہ کو رہائی دیتا ہے اور بے غموں کو مصیبت میں مبتلا کرتا ہے عزت والوں کو ذلیل کرتا ہے اور ذلیلوں کو عزت دیتا ہے مالداروں کو محتاج کرتا ہے اور محتاجوں کو مالدار بنا تا ہے۔بادشاہ کوغلام کا جواب بہت پسند ایا اور اس نے وزیر کو حکم دیا کہ اس غلام کو وزارت کی خلعت پہنادے۔ غلام نے وزیر سے کہا :اے آقا !یہ بھی اللہ تعالی کی ایک شان ہے۔( مدارک الرحمن تحت الایۃ: ۲۹ ص۱۱۹۴) نوٹ :اس مقام پر ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ اللہ تعالی کیلئے’’ مصروف‘‘ اور’’ مشغول ‘‘کا لفظ استعمال نہیں کرسکتے کیونکہ اللہ تعالی ان اوصاف سے پاک ہے۔ {فبای الآء ربكما تكذبن: توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے} یعنی اے جن و انسان کے گروہ!اللہ تعالی کے جوا حسانات بیان ہوئے ان کا مشاہدہ کرنے کے باوجودتم دونوں اپنے رب عزوجل کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے( ابو سعود الرحمن تحت الایۃ: ۳۰ ۵ / ۶۶۴)