Surah Al Waqiah Ayat 57 (56:57)
The Inevitable · Juz 27 · Makki
نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ 57
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہم نے تمہیں پیدا کیا تو تم کیوں سچ نہیں مانتے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanہم نے تمہیں پیدا کیا تو تم کیوں نہیں سچ مانتے ۔
Tafseer (Urdu)
{نحن خلقنكم:ہم نے تمہیں پیدا کیا۔} یہاں سے اللہ تعالی نے انسان کی ابتدائی تخلیق سے اپنی قدرت اور وحدانیت پر استدلال فرمایا ہےچنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو!تمہیں یہ بات معلوم ہے کہ تم کچھ بھی نہیں تھے ہم تمہیں عدم سے وجود میں لے کر ائے تو تم مرنے کے بعد اٹھنے کوکیوں سچ نہیں مانتے حالانکہ جو پہلی بار پیدا کرنے پہ قادر ہے تو وہ دوبارہ پیدا کرنے پر (بدرجہ اولی) قادرہے۔ اور اگر تمہیں اس بات میں کہ ہم تمہیں عدم سے وجود میں لائے ہیں شک ہے تویہ بتاو کہ منی کے ایک قطرے سے جوبچہ پیدا ہوتا ہے کیا اس سے عورتوں کے رحم میں لڑکے یا لڑکی کی شکل و صورت تم بناتے ہو یا ہم ہی اسے انسانی صورت دیتے ہیں اور اسے زندگی عطا فرماتے ہیں جب ہم بے جان نطفے کو انسانی صورت عطا کرسکتے ہیں تو پیداہونے کے بعد مر جانے والوں کو زندہ کرنا ہماری قدرت سے کیا بعید ہے۔( خازن الواقعۃتحت الایۃ:۵۷-۵۹ ۴ / ۲۲۱ جلالین الواقعۃ تحت الایۃ: ۵۷-۵۹ ص ۴۴۷ تفسیر کبیر الواقعۃ تحت الایۃ: ۵۷-۵۹ ۱۰ / ۴۱۵-۴۱۶ روح البیان الواقعۃ تحت الایۃ: ۵۷-۵۹ ۹ / ۳۳۰-۳۳۱ ملتقطا) اللہ تعالی کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کرنا کیسا ہے علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’یاد رکھیں کہ(قران پاک میں ) جب اللہ تعالی اپنی ذات کے بارے میں جمع کے صیغہ کے ساتھ کوئی خبر دے تو اس وقت وہ اپنی ذات صفات اور اسماء کی طرف اشارہ فرما رہا ہوتا ہےجیسے ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ انا نحن نزلنا الذكر و انا له لحفظون‘‘(حجر:۹) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک ہم نے اس قران کو نازل کیاہے اور بیشک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ اور جب اللہ تعالی واحد کے صیغہ کے ساتھ اپنی ذات کے بارے میں کوئی خبر دے تو اس وقت وہ صرف اپنی ذات کی طرف اشارہ فرما رہا ہوتا ہےجیسے ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ انی انا الله رب العلمین‘‘(قصص:۳۰) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک میں ہی اللہ ہوں سارےجہانوں کاپالنے والاہوں ۔ اور یہ اس وقت ہے جب اللہ تعالی خود خبر دے البتہ بندے پر لازم ہے کہ وہ( ہمیشہ اللہ تعالی کے لئے واحد کا صیغہ بولے کبھی جمع کا صیغہ نہ بولے جیسے )یوں کہے کہ اے اللہ! تو میرا رب ہے یوں (ہر گز) نہ کہے کہ اے اللہ! اپ میرے رب ہیں کیونکہ اس میں شرک کا شائبہ ہے جو توحید کے منافی ہے۔( روح البیان الواقعۃ تحت الایۃ: ۵۷ ۹ / ۳۳۰) یعنی مناسب یہ ہے کہ اللہ تعالی کیلئے واحد کا صیغہ استعمال کیاجائے۔