Surah Al Waqiah Ayat 81 (56:81)
The Inevitable · Juz 27 · Makki
اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ 81
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا تم اس بات میں سستی کرتے ہو؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا اس بات میں تم سستی کرتے ہو ۔
Tafseer (Urdu)
{ افبهذا الحدیث انتم مدهنون: تو کیا تم اس بات میں سستی کرتے ہو} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے کفار مکہ کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ اے اہل مکہ ! تو کیا تم اللہ تعالی کے اس کلام کی تصدیق کرنے کی بجائے اس کا انکار کرتے ہو اور ا س انکار کو معمولی سمجھتے ہو اور تم نے اس عظیم نعمت کا شکر کرنے کی بجائے قران کو جھٹلانا ہی اپنا حصہ قرار دے رکھا ہے۔تفسیر خازن میں ہےحضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ’’وہ بندہ بڑابد نصیب ہے جس کا حصہ اللہ تعالی کی کتاب کو جھٹلانا ہو ۔( خازن الواقعۃ تحت الایۃ: ۸۲ ۴ / ۲۲۴) بعض مفسرین نے اس ایت ’’و تجعلون رزقكم انكم تكذبون‘‘ کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں : اللہ تعالی نے تمہیں جو نعمتیں عطا کی ہیں تم نے ان کا شکر کرنے کی بجائے انہیں جھٹلانا اپنا حصہ بنا رکھا ہے۔( خازن الواقعۃ تحت الایۃ: ۸۲ ۴ / ۲۲۴) اور جھٹلانے سے مراد یہ ہے کہ وہ نعمت ملنے کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرنے کی بجائے اسباب کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر بارش والی رات میں ہمیں صبح کی نماز پڑھائی جب رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا’’کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب عزوجل نے کیا فرمایا ہےلوگ عرض گزار ہوئے: اللہ تعالی اور ا س کا رسول بہتر جانتے ہیں ’’ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالی فرماتا ہے ’’میرے بندوں نے صبح کی تو کچھ مجھ پر ایمان رکھنے والے اور کچھ منکر تھےبہرحال جس نے کہا:اللہ تعالی کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش برسائی گئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے نے بارش برسائی ہے تو وہ میرا منکر اور ستاروں پر یقین رکھنے والاہے۔( بخاری کتاب الاذان باب یستقبل الامام الناس اذا سلم ۱ / ۲۹۵ الحدیث:۸۴۶)