Surah Al Waqiah Ayat 83 (56:83)
The Inevitable · Juz 27 · Makki
فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ 83
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر کیوں نہیں جب جان گلے تک پہنچے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر کیوں نہ ہو کہ جب جان گلے تک پہنچے۔
Tafseer (Urdu)
{ فلو لا اذا بلغت الحلقوم: پھر کیوں نہیں جب جان گلے تک پہنچے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی چار ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کفار!تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس وہ کتاب لائی جائے جس نے تمہیں اپنی مثل لانے سے عاجز کر دیا تو تم کہتے ہو کہ یہ جادو ہے اور یہ خود بنائی ہوئی کتاب ہےاگر تمہاری طرف سچا رسول بھیجا جائے تو تم اسے جادوگر اور جھوٹا کہنے لگ جاتے ہو اوراگر ہم تمہیں بارش عطا کریں تو تم کہنے لگتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے ۔اگر تم اپنی ان باتوں میں سچے ہو اور تمہارے خیال کے مطابق مرنے کے بعد اٹھنا اعمال کا حساب کیا جانا اور جزا دینے والا معبود وغیرہ یہ سب کچھ کوئی حقیقت نہیں ہے تو پھر تم ایساکیوں نہیں کرتے کہ جب تمہارے پیاروں میں سے کسی پر نزع کا وقت طاری ہو اور اس کی روح حلق تک پہنچ چکی ہو تو تم(اپنی طاقت و قوت کے بل بوتے پر)اس کی روح کولوٹادو حالانکہ تم ا س وقت دیکھ رہے ہوتے ہو کہ اس پر موت کی غشی طاری ہے اور ا س کی روح بس نکلنے ہی والی ہے لیکن تم اس مرنے والے کی روح لوٹانے اور اس کی جان بچانے پر قادر نہیں البتہ ہم اس وقت اپنے علم وقدرت کے ساتھ تم سے زیادہ اس مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں کہ ہر چیز کو جانتے بھی ہیں اور سب کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن تم اس چیز کو جانتے نہیں ۔ جب تمہیں معلوم ہے کہ روح کو لوٹا دینا تمہارے اختیار میں نہیں ہے تو سمجھ جاوکہ یہ کام اللہ تعالی کے اختیار میں ہے لہذا تم پر لازم ہے کہ اس پر ایمان لاؤ۔(مدارکالواقعۃ تحت الایۃ:۸۳-۸۷ ص ۱۲۰۴-۱۲۰۵ جلالین مع جمل الواقعۃ تحت الایۃ: ۸۳-۸۷ ۷ / ۴۰۶- ۴۰۷ خازن الواقعۃ تحت الایۃ: ۸۳-۸۷ ۴ / ۲۲۴-۲۲۵ ملتقطا)