Surah Al Hadid Ayat 17 (57:17)
The Iron · Juz 27 · Madani
اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجان لو کہ اللہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان فرمادیں تاکہ تم سمجھو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے بے شک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان فرمادیں کہ تمہیں سمجھ ہو ۔
Tafseer (Urdu)
{اعلموا ان الله یحی الارض بعد موتها: جان لو کہ اللہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ } یعنی اے لوگو! تم جان لو کہ زمین کے خشک ہو جانے کے بعد اللہ تعالی بارش برسا کر اور سبزہ اگا کر زمین کو زندہ کرتا ہے اور ایسے ہی دلوں کو سخت ہوجانے کے بعد نرم کرتا ہے اور انہیں علم و حکمت سے زندگی عطا فرماتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ’’یہ ذکر کے دلوں میں اثر کرنے کی ایک مثال ہے کہ جس طرح بارش سے زمین کو زندگی حاصل ہوتی ہے ایسے ہی اللہ تعالی کے ذکر سے دل زندہ ہوتے ہیں ۔( خازن الحدید تحت الایۃ: ۱۷ ۴ / ۲۳۰ مدارک الحدید تحت الایۃ: ۱۷ ص۱۲۱۰ ملتقطا) دل کی سختی کے اسباب اور ا س کی علامات: یاد رہے کہ دل کی نرمی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اور دل کی سختی بہت بڑی افت ہے کیونکہ دل کی سختی کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس میں وعظ و نصیحت اثر نہیں کرتاانسان کبھی اپنے سابقہ گناہوں کو یاد کر کے نہیں روتا اور اللہ تعالی کی ایات میں غورو فکر نہیں کرتا۔دل کی سختی کے مختلف اسباب اور علامات ہیں ان میں سے چند یہ ہیں : (1)…اللہ تعالی کے ذکر سے غفلت برتنا۔ (2)…قران پاک کی تلاوت نہ کرنا۔ (3)… موت کو یاد نہ کرنا۔ (4)…بیکار باتیں زیادہ کرنا۔ (5)… فحش گوئی کرنا۔ اب ان سے متعلق 6احادیث ملاحظہ ہوں (1)… حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ اس کی مثال جو اپنے رب عزوجل کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ اور مردہ کی سی ہے۔( بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذکر اللہ عزوجل ۴ / ۲۲۰ الحدیث: ۶۴۰۷ ) (2)… حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے۔نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جس گھر میں اللہ تعالی کا ذکر کیا جائے اور جس گھر میں اللہ تعالی کا ذکر نہ کیا جائے ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(مسلم کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا باب استحباب صلاۃ النافلۃ... الخ ص۳۹۳ الحدیث: ۲۱۱(۷۷۹)) (3)…حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالی کے ذکر کے بغیر زیادہ باتیں (یعنی بیکار باتیں )نہ کرو کیونکہ اللہ تعالی کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں دل کی سختی ہے اور لوگوں میں اللہ تعالی سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہے۔( ترمذی کتاب الزہد ۶۲-باب منہ ۴ / ۱۸۴ الحدیث: ۲۴۱۹) (4)…حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے رہتے ہیں جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے ۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان دلوں کی صفائی کس چیز سے ہو گیارشاد فرمایا ’’موت کو زیادہ یاد کرنے سے اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے۔( شعب الایمان التاسع عشر من شعب الایمان... الخ فصل فی ادمان تلاوۃ القران ۲ / ۳۵۲ الحدیث: ۲۰۱۴) (5)… حضرت ربیع بن انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’دنیا سے بے رغبت ہونے اور اخرت کی طرف راغب ہونے کے لئے موت کو یاد کرنا کافی ہے۔( شعب الایمان الحادی والسبعون من شعب الایمان... الخ ۷ / ۳۵۲ الحدیث:۱۰۵۵۴) (6)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’شرم و حیا ایمان سے ہے ا ور ایمان جنت میں ہے اور فحش گوئی سخت دلی سے ہے اور سخت دلی آگ میں ہے۔( ترمذی کتاب البر والصلۃ باب ما جاء فی الحیائ ۳ / ۴۰۶ الحدیث: ۲۰۱۶) اللہ تعالی ہمیں دل کی سختی سے محفوظ فرمائے اور دل کی نرمی عطا فرمائےامین۔ {قد بینا لكم الایت: بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان فرمادیں ۔} ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! بیشک ہم نے تمہارے لیے اپنی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بیان فرمادیں تاکہ تم ان سے اللہ تعالی کی قدرت کوسمجھو اور ان نشانیوں کے تقاضوں کے مطابق عمل کر کے دنیا و اخرت میں کامیاب ہو جاو۔( خازن الحدید تحت الایۃ: ۱۷ ۴ / ۲۳۰ ابو سعود الحدید تحت الایۃ: ۱۷ ۵ / ۶۸۶ ملتقطا)