Surah Al Hadid Ayat 21 (57:21)
The Iron · Juz 27 · Madani
سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِۙ-اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖؕ-ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ 21
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھ جاؤ جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی وسعت جیسی ہے۔ اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لانے والوں کیلئے تیار کی گئی ہے،یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ تیار ہوئی ہے ان کے لیے جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{سابقوا الى مغفرة من ربكم: اپنے رب کی بخشش کی طرف ایک دوسرے سے اگے بڑھ جاو۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے دنیا کے حقیر ہونے اور اخرت کے عظیم ہونے کو بیان فرمایا اور اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو ان اعمال میں جلدی کرنے اور ایک دوسرے سے اگے بڑھ جانے کی ترغیب دی ہے جن کی بنا پر بندہ اللہ تعالی کے فضل سے اس کی بخشش اور جنت کا حق دار قرار پاتا ہے چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! دنیا کی زندگی بہت قلیل ہے اس لئے وہ اعمال کرنے میں جلدی کرو اور ان میں ایک دوسرے سے اگے بڑھ جاو جن کی وجہ سے تم اللہ تعالی کی بخشش اور ا س جنت کے حق دار ٹھہرو جس کی چوڑائی ایسی ہے کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے ٹکڑے ایک دوسرے سے ملا دیئے جائیں تو جتنے چوڑے وہ ہوں گے اتنی جنت کی چوڑائی ہے۔ یہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرتے اور اس کے سب رسولوں کی تصدیق کرتے اور ان پر ایمان لاتے ہیں ۔ یہ جنت اللہ تعالی کا وہ فضل ہے جو ا س نے مسلمانوں پر فرمایا اور اللہ تعالی اپنا فضل اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے دے اور اللہ تعالی لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے کہ اسی نے دنیا میں لوگوں پر رزق وسیع کیا انہیں نعمتیں عطا فرمائیں اور انہیں شکر کے مقامات کی پہچان کرائی پھر اپنی اطاعت وفرمانبرداری کرنے پر اخرت میں انہیں وہ جزا عطافرمائی جو اس نے اطاعت گزاروں کے لئے تیار فرمائی ہے اور ا س کا(کچھ) وصف ابھی بیان ہوا۔( مدارک الحدید تحت الایۃ : ۲۱ ص۱۲۱۱ خازن الحدید تحت الایۃ: ۲۱ ۴ / ۲۳۱ تفسیر طبری الحدید تحت الایۃ: ۲۱ ۱۱ / ۶۸۵ ملتقطا) مغفرت کی طرف جلدی کرنے کا فرمایا گیا ہے اس کا ایک ذریعہ جیسے نیکیوں کی طرف جلدی کرنا ہے اسی طرح دوسرا طریقہ توبہ کرنا اور استغفار کرنا بھی ہے کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں چنانچہ دعائے مغفرت نہایت محبوب شے ہے لہذا مسلمان بندے کو اپنی بخشش کی دعا کرتے رہنا چاہیے اور خصوصا اگر گناہوں سے توبہ کرکے ہو اور نور علی نور یہ کہ بارگاہ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں حاضر ہو کر اپنی بخشش کی دعا کی جائے چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و استغفروا الله-ان الله غفور رحیم‘‘(مزمل:۲۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ سے بخشش مانگو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’و من یعمل سوءا او یظلم نفسه ثم یستغفر الله یجد الله غفورا رحیما ‘‘(نساء:۱۱۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور جو کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔ اورحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اللہ تعالی فرماتا ہے ’’اے انسان! جب تک تومجھ سے دعا کرتا اور امید رکھتا رہے گا میں تیرے گناہ بخشتا رہوں گا چاہے تجھ میں کتنے ہی گناہ ہوں مجھے کوئی پرواہ نہیں۔اے انسان! اگر تیرے گناہ اسمان تک پہنچ جائیںپھر تو بخشش مانگے تو میں بخش دوں گا مجھے کوئی پرواہ نہیں۔اے انسان! اگر تو زمین بھر گناہ بھی میرے پاس لے کر ائے لیکن تو نے شرک نہ کیا ہو تو میں تجھے ا س کے برابر بخش دوں گا۔( ترمذی کتاب الدعوات باب فی فضل التوبۃ والاستغفار... الخ ۵/۳۱۸ الحدیث: ۳۵۵۱) اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تم میں سے کوئی اس طرح نہ کہے ’’یا اللہ ! عزوجل اگر تو چاہے تو مجھے بخش۔یا اللہ ! عزوجل اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما۔بلکہ یقین کے ساتھ سوال کرناچاہئے کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔( ترمذی کتاب الدعوات ۷۷-باب ۵/۲۹۹ الحدیث: ۳۵۰۸) اور اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و الذین اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم۫-و من یغفر الذنوب الا الله ﳑ و لم یصروا على ما فعلوا و هم یعلمون‘‘(ال عمران:۱۳۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ لوگ کہ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرلیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تواللہ کو یاد کرکےاپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اللہ کے علاوہ کون گناہوں کو معاف کر سکتا ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اپنے برے اعمال پر اصرار نہ کریں ۔ اور اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و لو انهم اذ ظلموا انفسهم جآءوك فاستغفروا الله و استغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحیما‘‘(النساء :۶۴) ترجمہ کنزالعرفان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کربیٹھے تھے تو اے حبیب! تمہاری بارگاہ میں حاضر ہوجاتے پھر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول(بھی) ان کی مغفرت کی دعافرماتے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صدقے ایمان پر قائم رہنے اور گناہوں سے توبہ و استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔