Surah Al Hadid Ayat 22 (57:22)
The Iron · Juz 27 · Madani
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَاؕ-اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌﭕ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariزمین میں اور تمہاری جانوں میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ ہمارے اسے پیدا کرنے سے پہلے (ہی) ایک کتاب میں (لکھی ہوئی)ہے بیشک یہ اللہ پر آسان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanنہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں ہے قبل اس کے کہ ہم اُسے پیدا کریں بے شک یہ اللہ کو آسان ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{ما اصاب من مصیبة فی الارض و لا فی انفسكم: زمین میں اور تمہاری جانوں میں جو مصیبت پہنچتی ہے۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنی قضاء اور تقدیر کا بیان فرمایا ہے کہ اے لوگو!زمین میں قحط کی بارش رک جانے کی پیداوار نہ ہونے کی پھلوں کی کمی کی اور کھیتیوں کے تباہ ہونے کی اسی طرح تمہاری جانوں میں بیماریوں کی اور اولاد کے غموں کی جو مصیبت تمہیں پہنچتی ہے وہ ہمارے اسے (یعنی زمین کو یا جانوں کو یا مصیبت کو)پیدا کرنے سے پہلے ہی ہماری ایک کتاب لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہوتی ہے اور انہیں لوح محفوظ میں لکھ دینا ہمارے لئے اسان ہے۔( مدارک الحدید تحت الایۃ: ۲۲ ص۱۲۱۱ خازن الحدید تحت الایۃ: ۲۲ ۴ / ۲۳۱ ملتقطا) یاد رہے کہ بندے کو پہنچنے والی ہر مصیبت ا س کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے اور ہرمصیبت اللہ تعالی کے حکم سے ہی پہنچتی ہے جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’ما اصاب من مصیبة الا باذن الله‘‘(تغابن:۱۱) ترجمہ کنزالعرفان: ہر مصیبت اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔ البتہ بعض مصیبتیں بعض وجوہات کی بنا پر بھی اتی ہیں اور یہ وجوہات بھی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں ان وجوہات میں سے ایک وجہ گناہ کرنا ہے۔ جیساکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و ما اصابكم من مصیبة فبما كسبت ایدیكم و یعفوا عن كثیر‘‘(شوری:۳۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو وہ معاف فرمادیتا ہے۔ اورحضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ تعالی معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ الشوری ۵ / ۱۶۹ الحدیث: ۳۲۶۳) اور بسا اوقات مومن کے گناہوں کو معاف کرنے اور ا س کے درجات کی بلندی کے لئے اسے مصیبت پہنچتی ہے جیساکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’مومن کو کانٹا چبھنے یا اس سے بڑی کوئی تکلیف پہنچتی ہے توا س کی وجہ سے اللہ تعالی اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی ایک خطا مٹادیتا ہے۔( مسلم کتاب البر والصلۃ والاداب ص۱۳۹۱ الحدیث: ۴۷(۲۵۷۲)) لہذا جس شخص پر کوئی مصیبت ائے تواسے چاہئے کہ وہ اس بات پر یقین رکھے کہ یہ مصیبت ا س کے نصیب میں لکھی ہوئی تھی اور ا س بات پر غور کرے کہ کہیں اس سے کوئی ایسا گناہ صادر نہ ہو ا ہو جس کے نتیجے میں ا س پر یہ مصیبت ائی نیزاللہ تعالی سے یہ امید رکھے کہ وہ اس مصیبت کے سبب اس کے گناہ مٹا دے اور اس کے درجات بلند فرما دے۔ ایسا کرنے سے ذہن کو سکون نصیب ہو گادل کو تسلی حاصل ہو گی اور مصیبت پر صبر کرنا بھی اسان ہو جائے گا۔اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائےامین۔