Surah Al Hadid Ayat 23 (57:23)
The Iron · Juz 27 · Madani
لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ ﹰ 23
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتاکہ تم اس پر غم نہ کھاؤ جو تم سے جاتی رہے اور اس پراتراؤنہیں جو تمہیں اللہ نے دیا ہے اور اللہ ہر متکبر، بڑائی جتانے والے کو ناپسند کرتاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس لیے کہ غم نہ کھاؤ اس پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو اس پر جو تم کو دیا اور اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اترونا بڑائی مارنے والا ۔
Tafseer (Urdu)
{لكیلا تاسوا على ما فاتكم: تاکہ تم اس پر غم نہ کھاؤ جو تم سے جاتی رہے۔} یعنی تمہیں پہنچنے والی مصیبتیں لوح محفوظ میں لکھ دینے کی حکمت یہ ہے کہ دنیا کا جو ساز و سامان تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے تم ا س پر غم نہ کھاو اور دنیا کا جو مال و متاع اللہ تعالی نے تمہیں دیاہے تم اس پر خوش نہ ہو اور یہ سمجھ لو کہ جو اللہ تعالی نے مقدر فرمایا ہے ضرور ہونا ہے نہ غم کرنے سے کوئی ضائع شدہ چیز واپس مل سکتی ہے اور نہ فنا ہونے والی چیز اترانے کے لائق ہے تو ہونا یہ چاہیے کہ خوشی کی جگہ شکر اورغم کی جگہ صبر اختیا ر کرو ۔ یہاں غم کی مذمت بیان ہوئی ہے اس غم سے مراد انسان کی وہ حالت ہے جس میں صبرنہ ہو اور اللہ تعالی کی تقدیر پرراضی رہنا نہ پایا جائے اور ثواب کی امید بھی ادمی نہ رکھے جبکہ خوشی سے وہ اترانا مراد ہے جس میں مست ہو کر آدمی شکر سے غافل ہوجائے البتہ وہ رنج و غم جس میں بندہ اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو اور اس کی رضا پر راضی ہو ایسے ہی وہ خوشی جس پر حق تعالی کا شکر گزار ہو ممنوع نہیں ۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ اے فرزند آدم! کسی چیز کے فقدان پر کیوں غم کرتا ہے یہ اس کو تیرے پاس واپس نہ لائے گا اور کسی موجود چیز پر کیوں اتراتا ہے موت اس کو تیرے ہاتھ میں نہ چھوڑے گی۔( مدارک الحدید تحت الایۃ: ۲۳ ص۱۲۱۱-۱۲۱۲ خازن الحدید تحت الایۃ: ۲۳ ۴ / ۲۳۱-۲۳۲ ملتقطا)