Surah Al Hashr Ayat 5 (59:5)
The Exile · Juz 28 · Madani
مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآىٕمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔ (اے مسلمانو!)تم نے جو درخت کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دئیے تویہ سب اللہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے تاکہ اللہ نافرمانوں کو رسوا کرے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو درخت تم نے کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دئیے یہ سب اللہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے کہ فاسقوں کو رسوا کرے۔
Tafseer (Urdu)
{ما قطعتم من لینة او تركتموها قآىمة على اصولها: تم نے جو درخت کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دئیے۔} شان نزول :جب بنونضیراپنے قلعوں میں پناہ گزیں ہوئے تو سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے درخت کاٹ ڈالنے اور انہیں جلادینے کا حکم دیا اس پر وہ دشمنان خدا بہت گھبرائے اور رنجیدہ ہوئے اور کہنے لگے کہ کیا تمہاری کتاب میں اس کا حکم ہے(یہ سن کر) مسلمان اس بارے میں مختلف ہوگئے اوربعض نے کہا :درخت نہ کاٹو یہ غنیمت ہے جو اللہ تعالی نے ہمیں عطا فرمائی۔ بعض نے کہا :اس سے کفار کو رسوا کرنا اور انہیں غیظ میں ڈالنا منظور ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں بتایاگیا کہ مسلمانوں میں جو درخت کاٹنے والے ہیں ان کا عمل بھی درست ہے اور جو کاٹنا نہیں چاہتے وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ درختوں کو کاٹنا اور باقی چھوڑ دینا یہ دونوں اللہ تعالی کی اجازت سے تھے اور اجازت دینا اس لئے تھا کہ اس کے ذریعے اللہ تعالی یہود یوں کو ذلیل کرے۔( خازن الحشر تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۲۴۶ ملخصا) ایت’’ما قطعتم من لینة‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل: ا س ایت سے2 مسئلے معلوم ہوئے : (1)… قران کے علاوہ بھی اللہ تعالی کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف وحی بھیجی جاتی تھی کیونکہ ایت میں بیان کردہ درختوں کو کاٹنے کا اذن الہی قران میں کہیں مذکور نہیں تو یہ اجازت قران کے علاوہ وحی میں ہی دی گئی تھی۔ (2)… جہاد میں کفار کو مغموم کرنے کے لئے ان کا مال برباد کر ناجائز ہے۔