Surah Al Hashr Ayat 6 (59:6)
The Exile · Juz 28 · Madani
وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ نے اپنے رسول کو ان سے جو غنیمت دلائی تو تم نے اس پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ ،ہاں اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے غلبہ دیدیتا ہے اور اللہ ہر شے پرخوب قادرہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان سے تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے نہ اونٹ ہاں اللہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و ما افآء الله على رسوله منهم: اور اللہ نے اپنے رسول کو ان سے جو غنیمت دلائی ۔} بنو نضیر کے یہودیوں کو دی جانے والی سزا بیان کرنے کے بعد اب یہاں سے ان اموال کا حکم بیان کیا جا رہے جو ان سے حاصل ہوئے چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوبنو نضیر کے یہودیوں سے جو غنیمت دلائی تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ یعنی اس کیلئے تمہیں کوئی مشقت اور کوفت نہیں اٹھانا پڑی صرف دو میل کا فاصلہ تھا سب لوگ پیدل چلے گئے اور صرف رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سوار ہوئےہاں اللہ تعالی اپنے رسولوں علیہ م الصلوۃ والسلام کو جس دشمن پر چاہتا ہے غلبہ دے دیتا ہے اور اللہ تعالی ہر شے پر قادر ہے۔ مرا دیہ ہے کہ بنو نضیر سے جو مال غنیمت حاصل ہوئے ان کیلئے مسلمانوں کو جنگ نہیں کرنا پڑی بلکہ اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ان پر مسلط کردیا تو یہ مال حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مرضی پر موقوف ہےوہ جہاں چاہیں خرچ کریں ۔رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ مال مہاجرین پر تقسیم کردیا اور انصار میں سے صرف تین صاحب حاجت لوگوں کو دیا اور وہ تین حضرت ابودجانہ سماک بن خرشہ حضرت سہل بن حنیف اور حضرت حارث بن صمہ رضی اللہ تعالی عنہم ہیں ۔( مدارک الحشر تحت الایۃ: ۶ ص۱۲۲۴ خازن الحشر تحت الایۃ: ۶ ۴ / ۲۴۶ ملتقطا)