Surah Al Anam Ayat 1 (6:1)
The Cattle · Juz 7 · Makki
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ۬ؕ-ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے اور اندھیروں اور نور کو پیدا کیا پھر (بھی) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسب خوبیاں اللہ کو جس نے آسمان اور زمین بنائے اور اندھیریاں اور روشنی پیدا کی اس پر کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{الحمد لله:تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔} اس آیت میں بندوں کو اللہ تعالی کی حمد کی تعلیم فرمائی گئی کہ وہ جب حمد کرنے لگیں تو ’’الحمد لله‘‘ کہیں ا ور آسمان وزمین کی پیدائش کا ذکر اس لئے ہے کہ ان میں دیکھنے والوں کے لئے اللہ عزوجل کی حکمت وقدرت کے بہت سے عجائبات عبرتیں اور منافع ہیں۔ حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ تو ریت میں سب سے پہلی یہی آیت ہے۔( خازن الانعام تحت الایۃ: ۱ ۲ / ۲) { و جعل الظلمت و النور:اور اندھیروں اور نور کو پیدا کیا۔}یعنی ہر اندھیرا اللہ عزوجل ہی نے پیدا فرمایا ہے خواہ وہ اندھیرا رات کا ہو کفر کا ہو جہالت کا ہو یا جہنم کا ہو ۔ یونہی ہر ایک روشنی اسی نے پیدا فرمائی خواہ وہ روشنی دن کی ہو ایمان و ہدایت کی ہو علم کی ہو یا جنت کی ہو۔ برا کام کر کے اللہ تعالی کی مشیت کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے: یہاں ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ اگرچہ ہر اچھی بری چیز کو پیدا فرمانے والا رب تعالی ہے لیکن برا کام کر کے تقدیر کی طرف نسبت کرنا اور مشیت الہی کے حوالے کرنا بری بات ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ جو اچھا کام کرے اسے اللہ تعالی کی جانب سے کہے اور جو برائی سرزد ہو اسے اپنے نفس کی شامت تصور کرے۔ نیز اس ایت میں ظلمات یعنی تاریکیوں کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ باطل کی راہیں بہت زیادہ ہیں اور راہ حق صرف ایک دین اسلام ہے۔ { ثم الذین كفروا بربهم یعدلون:پھر (بھی) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔}قدرت الہی کے ان دلائل کے بعد فرمایا کہ ایسے دلائل پر مطلع ہونے اور قدرت کی ایسی نشانیاں دیکھنے کے باوجود کفار اللہ تعالی کے علاوہ دوسروں کو حتی کہ پتھروں کو پوجتے ہیں حالانکہ کفار اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اللہ تعالی ہے۔ یہاں کفار کے شرک کا ذکر ہوا اس مناسبت سے شرک کی تعریف درج ذیل ہے۔ شرک کی تعریف : شرک کی تعریف یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے سوا کسی غیر کو واجب الوجود یا لائق عبادت سمجھاجائے ۔ حضرت علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃاللہ تعالی علیہ شرک کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :’’الاشترا ک ھواثبات الشریک فی الالوہیۃبمعنی وجوب الوجودکما للمجوس او بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الاصنام‘‘ یعنی ’’شرک یہ ہے کہ خدا کی الوہیت (یعنی معبود ہونے) میں کسی کو شریک کرنا اس طرح کہ کسی کو واجب الوجود مان لینا جیسا کہ مجوسیوں کا عقیدہ ہے یا خدا کے سوا کسی کو عبادت کا حقدار مان لینا جیسا کہ بت پرستوں کا خیا ل ہے۔(شرح عقائد نسفیہ مبحث الافعال کلہا بخلق اللہ تعالی والدلیل علیہا ص ۷۸) اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں : ’’ ادمی حقیقۃ کسی بات سے مشرک نہیں ہوتا جب تک غیرخدا کو معبود یا مستقل بالذات و واجب الوجود نہ جانے ۔(فتاوی رضویہ ۲۱ / ۱۳۱) صدرالشریعہ بدرالطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’شرک کے معنی غیر خدا کو واجب الوجود یا مستحق عبادت جاننا یعنی الوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا اور یہ کفر کی سب سے بد تر قسم ہے اس کے سوا کوئی بات کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃ شرک نہیں۔(بہار شریعت حصہ اول ایمان وکفر کا بیان۱ / ۱۸۳)