Surah Al Anam Ayat 103 (6:103)
The Cattle · Juz 7 · Makki
لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ٘-وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَۚ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ 103
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ تمام آنکھوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہی ہر باریک چیز کو جاننے والا، بڑا خبردار ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں اور سب آنکھیں اس کے احاطہ میں ہیں اور وہی ہے نہایت باطن پورا خبردار۔
Tafseer (Urdu)
{ لا تدركه الابصار: انکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔} اس ایت کا مفہوم سمجھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ عقائد کے متعلق بہت سے مسائل کا دارومدار اسی پر ہے۔ اخرت میں اللہ تعالی کے دیدار سے متعلق اہلسنت کا عقیدہ : یاد رکھیں کہ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ مومنوں کو آخرت میں اللہ تعالی کا دیدارہوگا۔اہل سنت کا یہ عقیدہ قرآن و حدیث اجماع صحابہ اور اکابر بزرگان دین کے کثیردلائل سے ثابت ہے ۔ دیدار الہی کے قران پاک سے تین دلائل: (1)… ارشاد باری تعالی ہے: ’’وجوه یومىذ ناضرة(۲۲) الى ربها ناظرة ‘‘ (القیامہ:۲۳۲۲) ترجمہ کنزالعرفان:کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔ (2)… اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ’’للذین احسنوا الحسنى و زیادة ‘‘ (یونس :۲۶) ترجمہ کنزالعرفان: بھلائی والوں کے لئے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد۔ صحاح ستہ کی بہت حدیثیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ اس آیت میں زیادت سے دیدار الہی مراد ہے ۔ (3)… حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی’’رب ارنی انظر الیك‘‘ اے میرے رب مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ اس پر انہیں جواب ملا ’’لن ترىنی‘‘ تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ۔ (اعراف: ۱۴۳) اس ایت مبارکہ میں اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ میرا دیدار ناممکن ہے کیونکہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام عارف باللہ ہیں اگر دیدار الہی ممکن نہ ہوتا تو آپ ہر گز سوال نہ فرماتے اس سے ثابت ہوا کہ دیدار الہی ممکن ہے۔ دیدار الہی کے احادیث سے 3دلائل: احادیث بھی اس بارے میں بکثرت ہیں ان میں سے 3 احادیث درج ذیل ہیں : (1)… مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالی فرمائے گا ’’کیا تم چاہتے ہو کہ تم پر اور زیادہ عنایت کروں وہ عرض کریں گے: یارب! عزوجل کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کئے کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا کیا تو نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’ پھرپردہ اٹھا دیا جائے گا تو دیدار الہی انہیں ہر نعمت سے زیادہ پیارا ہوگا۔ (مسلم کتاب الایمان باب اثبات رویۃ المومنین فی الاخرۃ ربہم سبحانہ وتعالی ص۱۱۰ الحدیث: ۲۹۷(۱۸۱)) (2)…حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ہم سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ رات کے وقت اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: ’’عنقریب تم اپنے رب عزوجل کو دیکھو گے جیسے اس چاندکو دیکھتے ہو اور اسے دیکھنے میں کوئی دقت محسوس نہ کرو گے۔ (بخاری کتاب مواقیت الصلاۃ باب فضل صلاۃ العصر ۱ / ۲۰۳ الحدیث: ۵۵۴) (3)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب عزوجل کو دیکھیں گے ارشاد فرمایا: کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تو سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف ہوتی ہے عرض کی: نہیں۔ ارشاد فرمایا: چودھویں رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمہیں چاند دیکھنے سے کوئی تکلیف ہوتی ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: نہیں ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہیں اپنے رب عزوجل کو دیکھنے میں صرف اتنی تکلیف ہو گی جتنی تکلیف تم کو سورج یا چاند دیکھنے سے ہوتی ہے۔ (مسلم کتاب الزہد والرقائق ص۱۵۸۷ الحدیث: ۱۶(۲۹۶۸)) ان دلائل سے ثابت ہوگیا کہ آخرت میں مومنین کے لئے دیدار الہی شرع میں ثابت ہے اور اس کا انکار گمراہی۔ گمراہ لوگ اس ایت کے ذریعے اللہ عزوجل کے دیدار کا انکار کرتے ہیں ہم یہاں ایت کا مفہوم بیان کرتے ہیں اس سے سارا معاملہ واضح ہوجائے گا۔ایت کے مفہوم کو کافی اسان کیا ہے لیکن پھر بھی اسے مکمل طور پر علماء ہی سمجھ سکتے ہیں لہذا عوام کی خدمت میں یہی عرض ہے کہ اوپر تک جو بیان ہوا وہی ان کیلئے کافی ہے اور نیچے کی بحث پر زیادہ دماغ نہ لڑائیں اور اگر ضرور ہی سمجھنا ہے تو کسی صحیح العقیدہ ماہرسنی عالم سے سمجھیں۔ ایت’’ لا تدركه الابصار‘‘ کا مفہوم: ادراک کے معنی ہیں کہ دیکھی جانے والی چیز کی تمام طرفوں اور حدوں پر واقف ہونا کہ یہ چیز فلاں جگہ سے شروع ہو کر فلاں جگہ ختم ہوگئی جیسے انسان کو ہم کہیں کہ سر سے شروع ہوکر پاوں پر ختم ہوگیا اسی کو احاطہ (گھیراو) کہتے ہیں۔ ادراک کی یہی تفسیر حضرت سعید بن مسیب اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے منقول ہے اور جمہور مفسرین ادراک کی تفسیر احاطہ سے فرماتے ہیں اور احاطہ اسی چیز کا ہوسکتا ہے جس کی حدیں اور جہتیں ہوں۔ اللہ تعالی کے لئے حد اور جہت محال ہے تو اس کا ادراک واحاطہ بھی ناممکن ۔یہی اہل سنت کامذہب ہے۔ خارجی اور معتزلہ وغیرہ گمراہ فرقے ادراک اور رویت میں فرق نہیں کرتے اس لئے وہ اس گمراہی میں مبتلا ہوگئے کہ انہوں نے دیدار الہی کو محال عقلی قرار دے دیا حالانکہ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ عزوجل کو دیکھا نہیں جاسکتا تو اس سے یہ لازم اتا ہے کہ اللہ عزوجل کو جانا بھی نہیں جاسکتا اور جیسے کائنات میں موجود تمام چیزوں کے برخلاف کیفیت وجہت کے بغیر اللہ عزوجل کو جانا جاسکتا ہے ایسے ہی دیکھا بھی جاسکتا ہے کیونکہ اگر دوسری موجودات بغیر کیفیت و جہت کے دیکھی نہیں جاسکتیں تو جانی بھی نہیں جاسکتیں۔ اس کلام کی بنیاد یہ ہے کہ دیکھنے کے معنی یہ ہیں کہ بصر (دیکھنے کی قوت) کسی شے کو جیسی وہ ہو ویسا جانے تو جو شے جہت والی ہوگی اس کا دیکھا جانا جہت میں ہوگا اور جس کے لئے جہت نہ ہوگی اس کا دیکھا جانا بغیر جہت کے ہوگا۔