Surah Al Anam Ayat 111 (6:111)
The Cattle · Juz 8 · Makki
وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ 111
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اُتار دیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز ان کے سامنے جمع کردیتے جب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ خدا چاہتا لیکن ان میں اکثر لوگ جاہل ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز ان کے سامنے اٹھا لاتے جب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ خدا چاہتا و لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ و لو اننا نزلنا الیهم الملىكة:اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے۔}پچھلی ایت میں اجمالی طور پر بیان ہوا تھا کہ نشانیاں طلب کرنے والے کفار کے مطالبات پورے کر دئیے جائیں تو بھی وہ ایمان نہ لائیں گے اور اس ایت مبارکہ میں اس اجمال کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ شان نزول: کفار مکہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مذاق کے طور پر کہا کرتے کہ اگر اپ سچے ہیں تو ہمارے مردوں کو زندہ کردیجئے تاکہ ہم ان سے پوچھیں کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جو فرماتے ہیں وہ حق ہے یا نہیں اور اپ ہمیں فرشتے دکھائیے جو ہمارے سامنے اپ کے رسول ہونے کی گواہی دیں یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لائیے۔ ان کے جواب میں یہ ایت کریمہ نازل ہوئی۔ (خازن الانعام تحت الایۃ: ۱۱۱ ۲ / ۴۷) اور فرمایا گیا کہ ’’ اے محبوب! اگر ہم کفارکے مطالبے کے مطابق ان کی طرف فرشتے اتار دیں جنہیں وہ ان کی اصلی شکل میں دیکھ لیں اور وہ ان سے اپ کی رسالت کی گواہی سن لیں۔ یونہی اگر ہم ان کے مطلوبہ یا عام مردے زندہ کر کے ان کے سامنے کھڑے کر دیں تاکہ یہ ان سے معلوم کر لیں کہ اپ جو پیغام لائے ہیں وہ حق ہے یا نہیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اگر ہم ا ن کے مطالبات سے زائد مخلوقات میں سے ہر خشک و تر شجرو حجر نباتات و حیوانات ان کے سامنے جمع کردیں تب بھی یہ لوگ ایمان لائیں گے اور نہ اپ کی تصدیق کریں گے اور نہ ہی اپ کی پیروی کریں گے البتہ جن کی قسمت میں ایمان لکھا ہوگا اور اللہ تعالی کی مرضی جن کے ایمان کے متعلق ہوگی وہ ایمان لائیں گے۔ (تفسیر طبری الانعام تحت الایۃ: ۱۱۱ ۵ / ۳۱۱) اللہ تعالی کی مشیت سے متعلق دو اہم مسائل: اس مقام پر دو اہم مسائل ذہن نشین رکھیں : (1)…اللہ تعالی نے اس کائنات کو پیدا فرمایا اور جیسا ہونے والا تھا اور جیسا کوئی کرنے والا تھا وہ سب اللہ تعالی کے علم ازلی میں تھا اور اس نے وہی لکھ دیا تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا زید کے ذمے برائی لکھی اس لئے کہ زید برائی کرنے والا تھا اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا تووہ اس کے لئے بھلائی لکھتا تو اللہ تعالی کے علم یا اس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کر دیا۔ (2)… یہ درست ہے کہ بندوں کے تمام افعال اللہ تعالی کے ارادہ اس کی مشیت اور اس کی قضاء سے وجود پذیر ہوتے ہیں لیکن قادر و قدیر رب عزوجل نے انسان کو پتھر اور دیگر جمادات کی طرح بے بس مجبور اور بالکل بے اختیار نہیں بنا یا بلکہ اسے ایک قسم کا اختیار دیا ہے کہ کوئی کام چاہے تو کرے چاہے نہ کرے اور اس کے ساتھ عقل بھی دی ہے کہ اپنا برا بھلا نفع و نقصان پہچان سکے پھر نیکی یا بدی اچھائی یا برائی میں سے جس کام کو اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس کی قوت اس انسان میں پیدا فرما دیتا ہے اور اسی اختیار کے اعتبار سے وہ جزا و سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ اگر انسان نیکی یا بدی اچھائی یا برائی پر کوئی اختیار ہی نہیں رکھتا تو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو ہدایت کے لئے مبعوث فرمانا انسان کو احکام کا مکلف کرنا اور اسے اس کے اعمال کی جزاء و سزا دینا سب بے معنی اور عبث ہو جائے گا اور اللہ تعالی کا کوئی کام عبث نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایمان وہی لائیں گے جن کے ایمان کا اللہ تعالی ارادہ فرمائے گا اور کفر وہی کریں گے جن کے کفر کا اللہ تعالی ارادہ فرمائے گا اور اللہ تعالی ان کے کفر کا اس لئے ارادہ فرماتا ہے کہ وہ کفر کو اختیار کرتے ہیں۔