Surah Al Anam Ayat 112 (6:112)
The Cattle · Juz 8 · Makki
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاؕ-وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ 112
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اسی طرح ہم نے ہر نبی کا دشمن بنایا انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو ان میں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کے لئے بناوٹی باتوں کے وسوسے ڈالتا ہے اور اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے توتم انہیں اور ان کی بناوٹی باتوں کو چھوڑ دو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن کئے ہیں آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان کہ ان میں ایک دوسرے پر خفیہ ڈالتا ہے بناوٹ کی بات دھوکے کو اور تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو انہیں ان کی بناوٹوں پر چھوڑ دو۔
Tafseer (Urdu)
{ و كذلك جعلنا لكل نبی عدوا:اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن کئے ہیں۔} کفار مکہ کی مخالفت اور ایذا رسانیوں کی وجہ سے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بہت رنجیدہ تھے اس پر اللہ تعالی اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرما رہا ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جس طرح یہ کفار اپ کی مخالفت اور دشمنی میں سرگرم ہیں اسی طرح اپ سے پہلے جتنے ا نبیاء اور رسل علیہم الصلوۃ والسلام گزرے ہیں سب کی قوم کے کافر چاہے انسان ہوں یا جن ان کے دشمن تھے ۔ کفار کی انبیاء ورسل علیہم الصلوۃ والسلام سے عداوت اور مخالفت ہماری طرف سے ایک ازمائش ہے تاکہ انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام اس پر صبر کر کے اجر عظیم حاصل کریں لہذا اپ اپنی قوم کی مخالفت اور عداوت سے رنجیدہ خاطرنہ ہوں یہ ایک دوسرے کو دھوکے میں رکھنے کیلئے نت نئی باتیں گھڑتے ہیں چالیں چلتے ہیں فریب کاریاں کرتے ہیں اور وسوسے ڈالتے ہیں تاکہ دوسروں کو گمراہ کریں اور جو گمراہ ہیں وہ گمراہی سے نکل نہ سکیں۔ نیز یہاں بھی ملحوظ خاطر رہے کہ اگر اللہ عزوجل چاہتا تو وہ ایسانہ کرتے لیکن اللہ تعالی اپنی حکمت سے نظام کائنات چلارہا ہے اور کفر وایمان خیر و شر دونوں کے مدمقابل رہنے میں اس کی حکمتیں ہیں لہذا اپ انہیں اور ان کی دھوکے اور فریب کی خوشنما باتوں کو چھوڑ دیں اور صبر کریں اللہ عزوجل انہیں بدلہ دے گا رسوا کرے گا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مدد فرمائے گا۔ ایت مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام نبیوں کے دشمن ضرور ہوئے ہیں ایسے ہی علماء اور اولیاء کے دشمن بھی ضرور ہی ہوتے ہیں۔ { شیطین الانس و الجن:انسانوں اور جنوں کے شیطان۔} اس کی تفسیر میں علما ء کے دو قول ہیں (1)جنوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں اور انسانوں میں بھی کیونکہ شیطان ہر سرکش و نافرمان کو کہتے ہیں چاہے وہ انسان ہو یا جن۔ (2) جنوں اور انسانوں کے شیطان سے مراد ابلیس کی اولاد ہے۔ ابلیس نے اپنی اولاد کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ایک گروہ انسانوں کو وسوسہ ڈالتا ہے اور ایک گروہ جنوں کو وسوسہ ڈالتا ہے۔(خازن الانعام تحت الایۃ: ۱۱۲ ۲ / ۴۸) خفیہ بات سے مراد وسوسے اور فریب کی باتیں ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ انسانی شیطانوں سے بچیں : اس ایت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جو گمراہ کن شخص کسی کو شریعت کے خلاف کام کی ترغیب دے وہ انسانی شیطان ہے اگرچہ وہ اپنے عزیزوں میں سے ہو یا عالم کے لباس میں ہو نیز اس میں وہ تمام لوگ داخل ہیں جو ازاد خیالی یا روشن خیالی کے نام پر شرعی کاموں کے خلاف پلاننگ کرتے اور منصوبے بناتے اور اس کیلئے تنظیمیں بناتے ہیں۔ سب مسلمانوں پر لاز م ہے کہ وہ ایسے انسانی شیطانوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ یہاں ایک نہایت اہم چیز کے بارے میں عرض کرنی ہے کہ ہمارے دور میں یہ وبا عام ہوتی جارہی ہے کہ بھائی ہر ایک کی سنو اور تحقیق کرو خواہ کہنے والا قران کے خلاف کہے یا حدیث کے یا اسلام کے۔ گویا معاذاللہ تحقیق مطالعہ کے نام پر ہر گمراہی سننے پڑھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور اس چیز کو باہمی رواداری ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش ایک دوسرے کے نکتہ نظر پر مطلع ہونا اپنے اپنے خیالات دوسروں سے شیئر کرنا وغیرہ وغیرہ کے بڑے دلچسپ نام دئیے جاتے ہیں لیکن کیا قران حدیث دین ایمان اسلام میں بھی اس چیز کی گنجائش ہے یا نہیں اس کی طرف کوئی نہیں دیکھتا۔ لہذا یہاں پر ہم قران و حدیث کی روشنی میں ایسی باطل تحقیق و مطالعہ کا حکم شرعی بیان کرتے ہیں اور ہمیں ان جاہلوں کی کوئی پرواہ نہیں جو قران و حدیث کے ان احکام کو اپنی جہالت و کوتاہ نظر سے تنگ نظری اور نجانے کیا کیا نام دیں گے۔ چنانچہ کفار و اسلام دشمن لوگوں کے لیکچرز سننے کے حوالے سے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا تو اپ نے بڑے احسن انداز میں جواب ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ’’ آج کل ہمارے عوام بھائیوں کی سخت جہالت یہ ہے کہ کسی آریہ نے اشتہار دیا کہ اسلام کے فلاں مضمون کے رد میں فلاں وقت لیکچر دیا جائے گا یہ سننے کیلئے دوڑ ے جاتے ہیں۔ کسی پادری نے اعلان کیا کہ نصرانیت کے فلاں مضمون کے ثبوت میں فلاں وقت ندا ہوگی یہ سننے کیلئے دوڑے جاتے ہیں۔ بھائیو! تم اپنے نفع نقصان کو زیادہ جانتے ہو یا تمہارا رب عزوجل اور تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کا حکم تو یہ ہے کہ شیطان تمہارے پاس وسوسہ ڈالنے آئے تو سیدھا جواب یہ دے دو کہ تو جھوٹا ہے نہ یہ کہ تم آپ دوڑ دوڑ کے ان کے پاس جاؤ اور اپنے رب عزوجل اپنے قرآن اور اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان میں ملعون کلمات سنو۔ تم قران مجید کی اسی ایت کا اخری حصہ اور ا س کے متصل کی آیات کریمہ تلاوت کرتے جاؤ اور دیکھو کہ قرآن عظیم تمہاری اس حرکت کی کیسی کیسی شناعتیں بتاتا اور ان ناپاک لکچروں نداؤں کی نسبت تمہیں کیا کیا ہدایت فرماتا ہے چنانچہ اس ایت کے اخر میں ارشاد ہوتا ہے: ’’ و لو شآء ربك ما فعلوه فذرهم و ما یفترون‘‘ (الانعام:۱۱۲) اور تیرا رب چاہتا تو وہ یہ دھوکے بناوٹ کی باتیں نہ بناتے پھرتے تو تو انہیں اور ان کے بہتانوں کو یک لخت چھوڑ دے۔ دیکھو! اس ایت میں اللہ تعالی نے انہیں اور ان کی باتوں کو چھوڑنے کا حکم فرمایا یا ان کے پاس سننے کے لئے دوڑنے کا۔ اور سنئے اس کے بعد کی آیت میں فرماتا ہے: ’’و لتصغى الیه افـدة الذین لا یؤمنون بالاخرة و لیرضوه و لیقترفوا ما هم مقترفون‘‘(الانعام:۱۱۳) اور اس لئے کہ ایسے لوگوں کے دل اس کی طرف کان لگائیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اسے پسند کریں اور جو کچھ ناپاکیاں وہ کر رہے ہیں یہ بھی کرنے لگیں۔ دیکھو ان (کفار و نافرمان لوگوں ) کی باتوں کی طرف کان لگانا ان (لوگوں ) کا کام بتایا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کا نتیجہ یہ فرمایا کہ وہ ملعون باتیں ان پر اثر کر جائیں اور یہ بھی ان جیسے ہوجائیں۔ لوگ اپنی جہالت سے گمان کرتے ہیں کہ ہم اپنے دل سے مسلمان ہیں ہم پر ان کا کیا اثر ہوگا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں ’’جو دجال کی خبر سنے اس پر واجب ہے کہ اس سے دور بھاگے کہ خدا کی قسم آدمی اس کے پاس جائے گا اور یہ خیال کرے گا کہ میں تومسلمان ہوں یعنی مجھے اس سے کیا نقصان پہنچے گا وہاں اس کے دھوکوں میں پڑکر اس کا پیرو ہو جائے گا۔ (ابو داود اول کتاب الملاحم باب ذکر خروج الدجال ۴ / ۱۵۷ الحدیث: ۴۳۱۹) کیا دجال ایک اسی اخبث دجال کو سمجھتے ہو جو آنے والا ہے ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ تمام گمراہوں کے داعی منادی سب دجال ہیں اور سب سے دور بھاگنے ہی کا حکم فرمایا اور اس میں یہی اندیشہ بتایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں ’’آخر زمانے میں دجال کذاب لوگ ہوں گے کہ وہ باتیں تمہارے پاس لائیں گے جو نہ تم نے سنیں نہ تمہارے باپ دادا نے توان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔(مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء۔۔۔ الخ ص۹ الحدیث: ۷(۷)) اور سنئے اس کے بعد کی آیات میں فرماتا ہے: ’’ افغیر الله ابتغی حكما و هو الذی انزل الیكم الكتب مفصلا-و الذین اتینهم الكتب یعلمون انه منزل من ربك بالحق فلا تكونن من الممترین(۱۱۴)و تمت كلمت ربك صدقا و عدلا لا مبدل لكلمته- و هو السمیع العلیم(۱۱۵)و ان تطع اكثر من فی الارض یضلوك عن سبیل الله-ان یتبعون الا الظن و ان هم الا یخرصون(۱۱۶)ان ربك هو اعلم من یضل عن سبیله-و هو اعلم بالمهتدین‘‘ (الانعام:۱۱۴-۱۱۷) تو کیا اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا ڈھونڈوں حالانکہ اس نے مفصل کتاب تمہاری طرف اتاری اور اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ وہ تیرے رب کے پاس سے حق کے ساتھ اتری تو خبردار تو شک نہ کرنا اور تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں کامل ہے کوئی اس کی باتوں کا بدلنے والا نہیں اور وہ شنوا و دانا ہے اور زمین والوں میں زیادہ وہ ہیں کہ تو ان کی پیروی کرے تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں وہ تو گمان کے پیرو ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہکے گا اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔‘‘ یہ تمام آیات کریمہ انہیں مطالب کے سلسلہ بیان میں ہیں گویا ارشاد ہوتا ہے تم جو ان شیطان آدمیوں کی باتیں سننے جاؤ کیا تمہیں یہ تلاش ہے کہ دیکھیں اس مذہبی اختلاف میں یہ لکچرار یا یہ منادی کیا فیصلہ کرتا ہے ارے خدا سے بہتر فیصلہ کس کا! اس نے مفصل کتاب قرآن عظیم تمہیں عطا فرما دی اس کے بعد تم کو کسی لکچر ندا کی کیا حاجت ہے لکچر والے جو کسی دینی کتاب کا نام نہیں لیتے کس گنتی شمار میں ہیں ! یہ کتاب والے دل میں خوب جانتے ہیں کہ قرآن حق ہے (مگر) تعصب کی پٹی (ان کی) آنکھوں پر بندھی ہے کہ ہٹ دھرمی سے مکرے جاتے ہیں تو تجھے کیوں شک پیدا ہو کہ ان کی سننا چاہے تیرے رب کا کلام صدق وعدل میں بھرپور ہے کل تک جو اس پر تجھے کامل یقین تھا آج کیا اس میں فرق آیا کہ اس پر اعتراض سننا چاہتا ہے کیا خدا کی باتیں کوئی بدل سکتا ہے یہ نہ سمجھنا کہ میرا کوئی مقال (یعنی قول) کوئی خیال خدا سے چھپ رہے گا وہ سنتا جانتا ہے دیکھ اگر تونے ان کی سنی تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں گے (اے نادان!تو) کیا یہ خیال کرتا ہے کہ ان (گمراہ لوگوں ) کا علم دیکھوں (کہ) کہاں تک ہے یہ کیا کہتے ہیں ارے ان کے پاس علم کہاں وہ تو اپنے اوہام کے پیچھے لگے ہوئے اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں جن کا تھل نہ بیڑا جب اللہ واحد قہار کی گواہی ہے کہ ان کے پاس نری مہمل اٹکلوں کے سوا کچھ نہیں تو ان کو سننے کے کیا معنی سننے سے پہلے وہی کہہ دے جو تیرے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تعلیم فرمایا کہ ’’شیطان تو جھوٹا ہے‘‘ اور اس گھمنڈ میں نہ رہنا کہ مجھ کو کیا گمراہ کریں گے میں تو راہ پر ہوں تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہکے گا اور کون راہ پر ہے (اگر) تو پورا راہ پرہوتا ہے تو بے راہوں کی سننے ہی کیوں جاتا حالانکہ تیرا رب فرما چکا ’’چھوڑ دے انہیں اور ان کے بہتانوں کو۔ تیرے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرما چکے ’’ان سے دور رہو اور ان کو اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو بہکانہ دیں کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔(مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء۔۔۔ الخ ص۹ الحدیث: ۷(۷)) بھائیو! ایک سہل بات ہے اس پر غور فرمالو۔ تم اپنے رب عزوجل اپنے قرآن اور اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر سچا ایمان رکھتے ہو یا معاذاللہ اس میں کچھ شک ہے! اور جسے شک ہوا سے اسلام سے کیا علاقہ(یعنی تعلق) وہ ناحق اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو کیوں بدنام کرے اور اگر سچا ایمان ہے تو اب یہ فرمائیے کہ ان کے لکچروں نداؤں میں آپ کے رب عزوجل قرآن نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ایمان کی تعریف ہوگی یا مذمت۔ ظاہر ہے کہ دوسری ہی صورت ہوگی اور اسی لئے تم کو بلاتے ہیں کہ تمہارے منہ پر تمہارے خدا نبی قرآن اور دین کی توہین وتکذیب کریں۔ اب ذرا غور کرلیجئے کہ ایک شریر نے زید کے نام اشتہار دیا کہ فلاں وقت فلاں مقام پر میں بیان کروں گا کہ تیرا باپ حرامی بچہ اور تیری ماں زانیہ تھی خدا کے لئے انصاف کیا کوئی غیرت والا حمیت والا اور انسانیت والا جبکہ اسے اس بیان سے روک دینے باز رکھنے پر قادر نہ ہو اسے سننے جائے گا۔ خدا کی قسم !ہر گز نہیں کسی بھنگی چمار سے بھی یہ نہ ہوسکے گا پھر ایمان کے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھو کہ اللہرسول اور قرآن عظیم کی توہین تکذیب اور مذمت سخت تر ہے یا ماں باپ کی گالی۔ ایمان رکھتے ہو تو اسے اس سے کچھ نسبت نہ جانو گے۔ پھر کون سے کلیجے سے ان جگر شگاف ناپاک ملعون بہتانوں افتراؤں شیطانی اٹکلوں اور ڈھکوسلوں کو سننے جاتے ہو بلکہ حقیقت اور انصاف کی بات تو یہ ہے کہ وہ جو کچھ بکتے اور اللہ رسول اور قرآن عظیم کی تحقیر کرتے ہیں ان سب کاباعث یہ سننے والے ہیں اگر مسلمان اپنا ایمان سنبھالیں اپنے رب قرآن اور رسول کی عزت عظمت پیش نظر رکھیں اور ایکا کرلیں کہ وہ خبیث لکچر گندی ندائیں سننے کوئی نہ جائے گا جو وہاں موجود ہو وہ بھی فورا وہی مبارک ارشاد کا کلمہ کہہ کر کہ ’’تو جھوٹا ہے‘‘ چلا جائے گا تو کیا وہ دیواروں پتھروں سے اپنا سر پھوڑیں گے تو تم سن سن کر کہلواتے ہو نہ تم سنو نہ وہ کہیں پھر انصاف کیجئے کہ اس کہنے کا وبال کس پر ہوا۔علماء فرماتے ہیں ’’ہٹے کٹے جوان تندرست جو بھیک مانگنے کے عادی ہوتے اور اسی کو اپنا پیشہ بنالیتے ہیں انہیں دینا ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر شہ دینی ہے لوگ نہ دیں تو جھک ماریں اور محنت مزدوری کریں۔ بھائیو! جب اس میں گناہ کی امداد ہے تو اس میں تو کفر کی مدد ہے۔ قرآن عظیم کی نص قطعی نے ایسی جگہ سے فورا ہٹ جانا فرض کردیا اور وہاں ٹھہرنا فقط حرام ہی نہ فرمایا بلکہ سنو تو کیا ارشاد کیا۔ رب عزوجل فرماتا ہے: ’’و قد نزل علیكم فی الكتب ان اذا سمعتم ایت الله یكفر بها و یستهزا بها فلا تقعدوا معهم حتى یخوضوا فی حدیث غیره ﳲ انكم اذا مثلهم-ان الله جامع المنفقین و الكفرین فی جهنم جمیعا ‘‘(النساء:۱۴۰) یعنی بے شک اللہ تم پر قرآن میں حکم اتار چکا کہ جب تم سنو کہ خدا کی آیتو ں سے انکار ہوتا اور ان کی ہنسی کی جاتی ہے تو ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو جب تک وہ اور باتوں میں مشغول نہ ہوں اور تم نے نہ مانا اور جس وقت وہ اللہ کی آیات پر اعتراض کر رہے ہیں وہاں بیٹھے تو جب تم بھی انہیں جیسے ہو بیشک اللہ تعالی منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔ دیکھو قرآن فرماتا ہے ہاں تمہارا رب رحمن فرماتا ہے جو ایسے جلسوں میں جائے ایسی جگہ کھڑا ہو وہ بھی انہیں کافروں آریوں پادریوں کی مثل ہے۔ آہ آہ حرام تو ہر گناہ ہے یہاں تو اللہ واحد قہار یہ فرما رہا ہے کہ وہاں ٹھہرے تو تم بھی انہیں جیسے ہو۔ مسلمانو! کیا قرآن عظیم کی یہ آیات تم نے منسوخ کردیں یا اللہ عزوجل کی اس سخت وعید کو سچا نہ سمجھے یا کافروں جیسا ہونا قبول کرلیا۔ اور جب کچھ نہیں تو ان جمگھٹوں کے کیا معنی ہیں جو آریوں پادریوں کے لکچروں نداؤں پر ہوتے ہیں ان جلسوں میں شرکت کیوں ہے جو خدا رسول اور قرآن پر اعتراضوں کیلئے کئے جاتے ہیں۔ بھائیو! میں نہیں کہتا قرآن فرماتا ہے کہ ’’ انكم اذا مثلهم‘‘ تم بھی ان ہی جیسے ہو۔‘‘ ان لکچروں پر جمگھٹ والے ان جلسوں میں شرکت والے سب انہیں کافروں کے مثل ہیں وہ علانیہ بک کر کافر ہوئے یہ زبان سے کلمہ پڑھیں اور دل میں خدا رسول اورقرآن کی اتنی عزت نہیں کہ جہاں ان کی توہین ہوتی ہو وہاں سے بچیں تو یہ منافق ہوئے جب تو فرمایا کہ اللہ انہیں اور انہیں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا کہ یہاں تم لکچر دو اور تم سنو۔ مسلمان اگر قرآن عظیم کی اس نصیحت پر عمل کریں تو ابھی ابھی دیکھیں کہ اللہ تعالی کے دشمنوں کے سب بازار ٹھنڈے ہوئے جاتے ہیں ملک میں ان کے شور وشر کا نشان نہ رہے گا جہنم کے کندے شیطان کے بندے آپس ہی میں ٹکرا ٹکرا کر سر پھوڑیں گے اللہ رسول اور قرآن عظیم کی توہینوں سے مسلمانوں کا کلیجا پکانا چھوڑیں گے اور اپنے گھر بیٹھ کر بکے بھی تو مسلمانوں کے کان تو ٹھنڈے رہیں گے۔(فتاوی رضویہ ۱ / ۷۸۱-۷۸۵ ملخصا)