Surah Al Anam Ayat 116 (6:116)
The Cattle · Juz 8 · Makki
وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ 116
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے سننے والے! زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں، یہ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ صرف اندازے لگا رہے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے سننے والے زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں وہ صرف گمان کے پیچھے ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ و ان تطع اكثر من فی الارض: اگر تو زمین میں موجود اکثر لوگوں کی اطاعت کرے۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے کفار کے شبہات کا جواب دیا پھر اللہ تعالی نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کے درست ہونے کودلائل کے ساتھ بیان کیا اور اب بیان فرمایا جا رہا ہے کہ جب شبہات زائل ہو گئے اور دلائل بھی واضح ہو چکے تو اب کسی عقلمند کے لئے جائز نہیں کہ وہ جاہلوں کی گفتگو کی طرف توجہ کرے اور نہ ہی ان کے فاسد کلمات کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہو لہذا اے سننے والے! اگر تو زمین میں موجود اکثر لوگوں یعنی کافروں کی غلط باتوں یعنی حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے میں ان کی پیروی کرے گا تو یہ تجھے اللہ عزوجل کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔ (تفسیر کبیر الانعام تحت الایۃ: ۱۱۶ ۵ / ۱۲۶) ایک قول یہ ہے کہ اس سے جاہل اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنے والے لوگوں کی پیروی مراد ہے۔(بیضاوی الانعام تحت الایۃ: ۱۱۶ ۲ / ۴۴۶) اسلامی لبادے میں ملبوس اسلام دشمنوں سے بچا جائے: اس ایت میں یہ پہلو بھی داخل ہے کہ عوام ایسے لوگوں سے بھی محتاط رہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی تعلیمات کی اشاعت کو اپنی ڈھال بنا کر اسلام ہی کی بنیادیں کھوکھلی کرنے میں مصروف ہیں ان کے بارے میں علمائے حق سے معلومات حاصل کر کے ان سے بچنے کی کوشش کریں دین کے مسلمہ امور میں ان کی قیاس ارائیاں حق کو باطل اور باطل کو حق ظاہر کرنے میں ان کی صرف کی ہوئی توانائیاں کسی کام کی نہیں ان کی پیروی دنیا و اخرت کے عظیم خسارے کا سبب بن سکتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ دینی امور میں صر ف اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی پیروی کریں ان کے مقابلے میں کسی کی بھی پیروی نہ کریں۔ اہل حق علماء اور مجتہدین کی پیروی درحقیقت اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ہی پیروی ہے کہ یہ حضرات ان ہی کے احکام سناتے ہیں۔ { ان یتبعون الا الظن: یہ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں۔} یعنی یہ کفار جو اپ سے اپ کے دین اور مذہب کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں انہیں تو اپنے مذہب کے درست ہونے کا بھی یقین نہیں۔ اپنے مذہب کو درست ثابت کرنے کیلئے ان کے پاس دلیل صرف اپنے جاہل اور گمراہ باپ دادا کی تقلید کرنا ہے یہ لو گ بصیرت و حق شناسی سے محروم ہیں اور دین کے بارے میں غلط اندازے لگا رہے ہیں کہ یہ حلال ہے یہ حرام۔ اٹکل سے کوئی چیز حلال یاحرام نہیں ہوتی جسے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حلال کیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کیا وہ حرام ہے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک اس ایت میں ’’ظن ‘‘سے مراد کفار کا اپنے مذہب کو ثابت کرنے میں اپنے اسلاف کی تقلید کرنا ہے مجتہد کے قیاس سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ (تفسیر کبیر الانعام تحت الایۃ: ۱۱۶ ۵ / ۱۲۷) قران وحدیث کے مقابلے میں اباو اجداد کی پیروی مشرکوں کا طریقہ ہے: اس سے معلوم ہوا کہ قران و حدیث کے مقابل اپنے باپ دادوں کی پیروی کرنا مشرکوں کا طریقہ ہے۔ فی زمانہ حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ اگر کوئی کسی غلط بات پر عمل پیرا ہو اور اسے سمجھایا جائے تو جواب یہی ملتا ہے کہ ہم تو عرصہ دراز سے یونہی کرتے چلے ا رہے ہیں ہم نے تو اج تک کسی کو اس بارے میں کوئی کلام کرتے نہیں سنا ہمارے بڑے بوڑھے بھی تو یہی کرتے ائے ہیں تم نے دو لفظ کیا پڑھ لئے اب ہمیں بھی سمجھانے لگ گئے ایسے حضرات کو چاہئے کہ اس ایت کریمہ کو سامنے رکھ کر خودغور کرلیں کہ وہ کن کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔