Surah Al Anam Ayat 118 (6:118)
The Cattle · Juz 8 · Makki
فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ 118
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو اس میں سے کھاؤجس پر اللہ کا نام لیا گیا اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کھاؤ اس میں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اگر تم ا س کی آیتیں مانتے ہو ۔
Tafseer (Urdu)
{ فكلوا:تو کھاؤ۔} یعنی جو جانور اللہ تعالی کے نام پر ذبح کیا گیا اسے کھاو اور جو اپنی موت مرا یا بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا وہ حرام ہے۔ جانور کے حلال ہونے کا تعلق اللہ عزوجل کے نام پر ذبح ہونے سے ہے ۔ شان نزول: مشرکین مسلمانوں پر اعتراض کرتے تھے کہ تم اپنا قتل کیا ہوا تو کھاتے ہو اور اللہ عزوجل کا مارا ہوا یعنی جو اپنی موت مرے اس کو حرام جانتے ہو۔ اس کے جواب میں یہ ایت اتری(خازن الانعام تحت الایۃ: ۱۱۸ ۲ / ۵۰) جس میں فرمایا گیا کہ جو اللہ عزوجل کے نام پر ذبح کیا گیا وہ حلال ہے اور جو اس کے نام پر ذبح نہ ہوا وہ حرام ہے۔ اور کافروں کا اعتراض کہ ذبیحہ کو ہم مارتے ہیں اور جو خود مرے اسے اللہ عزوجل مارتا ہے تو جو اللہ عزوجل کا مارا ہوا ہو وہ حرام کیوں اس اعتراض کی بنیاد ہی غلط ہے کیونکہ جس جانور کو کوئی شخص مارے اور جو جانور خود مرے بہرحال دونوں کو موت دینے والا اللہ عزوجل ہی ہے لہذا دونوں صورتوں میں یوں فرق کرنا ہی باطل ہے کہ ایک کو ہم نے مارا اور دوسرے کو اللہ عزوجل نے۔ اب رہا یہ کہ ایک حلال اور دوسرا حرام کیوں تو یہ اللہ عزوجل کا حکم ہے اور وہ خالق و مالک ہے جو چاہے حکم فرمائے اور یہ اس کے نام کی تعظیم کی ایک صورت ہے کہ اس کے نام پر ذبح کردہ جانور حلال ہے اور اس کے علاوہ حرام ہے۔ قران مجید پر ایمان لانے کا تقاضا: اس سے معلوم ہو اکہ قران مجید کی ایات پر ایمان لانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جسے اللہ تعالی نے حلال فرمایا اسے حلال سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے اور جسے حرام فرمایا اسے حرام مانا جائے اور ا س سے بچا جائے اور اللہ تعالی کے حلال کئے ہوئے کو حرام قرار دینا یا حرام کئے ہوئے کو حلال سمجھنا دونوں قران پر ایمان کے منافی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ قرآن کریم (اجمالی طور پر کلام کی) پانچ قسموں پر اترا: حلال حرام محکم متشابہ اور مثالیں لہذا حلال کو حلال جانو حرام کو حرام مانو محکم پر عمل کرو متشابہ پر ایمان لاو اور مثالوں سے عبرت پکڑو۔(مشکاۃ المصابیح کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ الفصل الثانی ۱ / ۵۶ الحدیث: ۱۸۲) حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اس شخص کا قران پر ایمان نہیں جو اس کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال سمجھے۔ (ترمذی کتاب فضائل القران ۲۰-باب ۴ / ۴۲۱ الحدیث: ۲۹۲۷)