Surah Al Anam Ayat 121 (6:121)
The Cattle · Juz 8 · Makki
وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌؕ-وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْۚ-وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ 121
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ اور بیشک یہ نافرمانی ہے اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں تا کہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانوگے تو اس وقت تم بھی یقینا مشرک ہوگے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اُسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا اور وہ بیشک حکم عدولی ہے اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانو تو اس وقت تم مشرک ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ و لا تاكلوا مما لم یذكر اسم الله علیه:اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاو۔} جس جانور پر ذبح کے وقت اللہ تعالی کا نام لیا گیا اس کا کھانا حلال ہے یہ بیان فرمانے کے بعد اب اس جانور کو کھانے سے منع کیا جا رہا ہے کہ جسے ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر اس پر اللہ تعالی کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ لہذا حکم یہ ہے کہ جس جانور پر مسلمان یا کتابی نے جان بوجھ کراللہ تعالی کا نام ذکر نہ کیا وہ حرام ہے اور اگر بھول کر نام لینا رہ گیا تو حلال ہے اور مسلمان و کتابی کے علاوہ کسی دوسرے کا ذبح کیا ہوا مطلقا حرام ہے۔ یاد رہے کہ یہاں کتابی سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو اپنے نبی اور کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ محض نام کے عیسائی اور حقیقت میں دہریہ مراد نہیں ہیں۔ { و ان الشیطین لیوحون الى اولیـهم:اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔} اس ایت مبارکہ کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ شیطان اپنے دوستوں یعنی مشرکوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں تاکہ وہ مردار کھانے کے معاملے میں تم سے جھگڑا کریں جیسا کہ اوپر کافروں کا ایک اعتراض نقل کیا گیا ہے۔ مزید فرمایا گیا کہ اے مسلمانو! اگر تم نے اللہ تعالی کے حرام کردہ کو حلال کہنے میں ان کافروں کی بات مانی تو اس وقت تم بھی یقینا مشرک ہوگے کیونکہ دین میں حکم الہی کو چھوڑنا اور دوسرے کے حکم کو ماننا اور اللہ تعالی کے سوا اور کو حاکم قرار دینا شرک ہے۔ علم کے بغیر دینی مسائل میں جھگڑنا شیطانی لوگوں کا کام ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ’’ بغیر علم دینی مسائل میں جھگڑنا یا محض جھگڑے کی نیت سے مناظرہ کرنا شیطانی لوگوں کا کام ہے لیکن تحقیق حق کے لئے مناظرہ کرنا عبادت ہے۔