Surah Al Anam Ayat 122 (6:122)
The Cattle · Juz 8 · Makki
اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 122
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کیا وہ جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کردیا اور ہم نے اس کے لیے ایک نور بنا دیا جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے (کیا) وہ اس جیسا ہوجائے گا جو اندھیروں میں (پڑا ہوا) ہے(اور) ان سے نکلنے والا بھی نہیں ۔ یونہی کافروں کے لئے ان کے اعمال آراستہ کردئیے گئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیا وہ کہ مردہ تھا تو ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایک نور کردیا جس سے لوگوں میں چلتا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو اندھیریوں میں ہے ان سے نکلنے والا نہیں یونہی کافروں کی آنکھ میں ان کے اعمال بھلے کردئیے گئے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ او من كان میتا:اور کیا وہ جو مردہ تھا۔} اس ایت میں مردہ سے کافر اور زندہ سے مومن مراد ہے کیونکہ کفر دلوں کے لئے موت جبکہ ایمان زندگی ہے اور نور سے ایمان مراد ہے جس کی بدولت آدمی کفر کی تاریکیوں سے نجات پاتا ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نور سے کتاب اللہ یعنی قرآن مراد ہے۔ (تفسیر بغوی الانعام تحت الایۃ: ۱۲۲ ۲ / ۱۰۵) کفر اور جہالت کی مثال اس ایت کریمہ میں کفر اور جہالت کی مثال بیان فرمائی گئی ہے کہ مومن اور کافر کا حال یہ ہے کہ ہدایت پانے والا مومن اس مردہ کی طرح ہے جس نے زندگی پائی اور اس کو نور ملا جس سے وہ مقصود کی طرف راہ پاتا ہے اور کافر اس کی مثل ہے جو طرح طرح کی اندھیریوں میں گرفتار ہوا اور ان سے نکل نہ سکے ہمیشہ حیرت میں ہی مبتلا رہے۔ یہ دونوں مثالیں ہر مومن و کافر کے لئے عام ہیں اگرچہ اس کے شان نزول کے بارے میں روایتیں مختلف ہیں ان میں سے تین روایتیں درج ذیل ہیں : (1)… حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکے قول کے مطابق اس ایت کا شا ن نزول یہ ہے کہ’’ ابوجہل نے ایک روز سید عالمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر کوئی نجس چیز پھینکی ۔ اس دن حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ شکار کو گئے ہوئے تھے جس وقت وہ ہاتھ میں کمان لئے ہوئے شکار سے واپس آئے تو انہیں اس واقعہ کی خبر دی گئی گو ابھی تک وہ دولت ایمان سے مشرف نہ ہوئے تھے لیکن یہ خبر سنتے ہی طیش میں اگئے اور ابوجہل کے پاس پہنچ کر اسے کمان سے مارنے لگے ۔ ابوجہل عاجزی اور خوشامد کرتے ہوئے کہنے لگا: اے ابویعلی! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کیسا دین لائے اور انہوں نے ہمارے معبودوں کو برا کہا اور ہمارے باپ دادا کی مخالفت کی اور ہمیں بدعقل بتایا ہے۔ اس پر حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا’’تم جیسا بدعقل کون ہے کہ تم اللہ عزوجل کو چھوڑ کر پتھروں کو پوجتے پھر رہے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد مصطفے (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔اسی وقت حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اسلام لے آئے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (2)…حضرت ضحاک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’یہ ایت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ اور ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ (3)… حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’یہ ایت حضرت عمار بن یاسررضی اللہ تعالی عنہ اور ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ (خازن الانعام تحت الایۃ: ۱۲۲ ۲ / ۵۲) تو حضرت امیر حمزہ یا حضرت عمر یا حضرت عمار بن یاسررضی اللہ تعالی عنہم اور یونہی ہر ایمان لانے والے کا حال اس کے مشابہ ہے جو مردہ تھا ایمان نہ رکھتا تھا اللہ تعالی نے اس کو روح ایمان عطا فرما کر زندہ کر دیا اور باطنی نور عطا فرمایا کہ جس کی روشنی میں وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے اور ابوجہل اور اس جیسوں کی حالت یہی ہے کہ وہ کفر وجہل کی تاریکیوں میں گرفتار ہے اور وہ ان تاریکیوں سے نکلنے والا بھی نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ گنہگار مومن اپنے گناہ کو اچھا نہیں سمجھتا اس لئے وہ مومن رہتا ہے لیکن کافر اپنی بد کرداریوں کو اچھا جانتا ہے اور ان پر ناز کرتا ہے اس لئے وہ لائق مغفرت نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے محبت کی برکت: حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ والے واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی محبت اور تائید و نصرت بہت خیروخوبی کا ذریعہ بنتی ہے جیسے یہاں ان کے لئے ایمان کی دولت حاصل کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ اسی طرح حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :کسی ادمی نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی: قیامت کب ائے گی اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’تم نے ا س کے لئے کیا تیار کر رکھا ہے اس نے عرض کی: میرے پاس تو کوئی عمل نہیں سوائے ا س کے کہ میں اللہ تعالی سے اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا ’’تم ان کے ساتھ ہو جن سے محبت رکھتے ہو۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :ہمیں اتنا کسی چیزنے خوش نہیں کیا جتنا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اس فرمان نے کیا کہ تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو۔ میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اور حضرت ابو بکر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما سے محبت کرتا ہوں لہذا میں امیدوار ہوں کہ ان کی محبت کے باعث میں ان کے ساتھ رہوں گا اگرچہ میرے اعمال ان جیسے نہیں۔ (بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔ الخ ۲ / ۵۲۷ الحدیث: ۳۶۸۸)