Surah Al Anam Ayat 123 (6:123)
The Cattle · Juz 8 · Makki
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَاؕ-وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ 123
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ویسے ہی ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کو (ان کا) سردار بنادیا تاکہ اس میں وہ اپنی سازشیں کریں اور وہ صرف اپنے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور انہیں شعور نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کے سرغنہ کیے کہ اس میں داؤں کھیلیں اور داؤں نہیں کھیلتے مگر اپنی جانوں پر اور انہیں شعورنہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ و كذلك جعلنا:اور اسی طرح ہم نے بنا دئیے۔} ارشاد فرمایا کہ جیسے کفار مکہ دیگر کافروں کے سردار ہیں ویسے ہی ہم نے ہر بستی میں اس بستی کے مجرموں کو ان کا سردار بنا دیا تاکہ اس بستی میں وہ اپنی سازشیں کریں اور طرح طرح کے حیلوں فریبوں اور مکاریوں سے لوگوں کو بہکانے اور باطل کو رواج دینے کی کوشش کریں۔ ان سے یہ افعال اس لئے سرزد ہوئے کہ یہ رئیس تھے اور اللہ تعالی کا طریقہ یہ رہا ہے کہ’’ ا س نے ہر بستی میں غریب لوگوں کو رسولوں کی پیروی کرنے والا اور نافرمانوں کو بستی کا سردار بنایا۔( خازن الانعام تحت الایۃ: ۱۲۳ ۲ / ۵۳) پیشواوں کے بگڑنے کا نقصان اور سنبھلنے کا فائدہ: ا س سے معلوم ہوا کہ قوم کے سرداروں کا بگڑنا قوم کو ہلاک کرتا ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ و اذا اردنا ان نهلك قریة امرنا مترفیها ففسقوا فیها فحق علیها القول فدمرنها تدمیرا‘‘ (بنی اسرائیل:۱۶) ترجمہ کنزالعرفان:اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں توہم اس کے خوشحال لوگوں کو (اپنے رسولوں کے ذریعے اپنی اطاعت کا)حکم دیتے ہیں پھر وہ لوگ اس بستی میں نافرمانی کرتے ہیں تو اس بستی پر (عذاب الہی کی) بات پکی ہوجاتی ہے تو ہم اسے تباہ وبرباد کردیتے ہیں۔ اسی طرح پیشواوں کا سنبھل جانا قوم کو سنبھالا دینا ہے۔ { لیمكروا فیها:تاکہ اس میں وہ اپنی سازشیں کریں۔} مکہ مکرمہ انے والے ہر راستے پر کفار مکہ نے چار چار افراد بٹھا دئیے تاکہ وہ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لانے سے روکیں چنانچہ جو شخص بھی مکہ میں حاضر ہوتا یہ لوگ اس سے کہتے کہ ’’تم اس شخص سے بچنا یہ کاہن ساحر اور کذاب ہے۔ ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ درحقیقت یہ صرف اپنے خلاف سازشیں کررہے ہیں ان سازشوں کا وبال انہی پر پڑے گا اور انہیں اس کا شعور نہیں۔ (بغوی الانعام تحت الایۃ: ۱۲۳ ۲ / ۱۰۶) اس ایت میں سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ اپ سرداران مکہ کی دشمنی سے پریشاننہ ہوں اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے پہلے جو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام گزرےوہ جس شہر میں مبعوث ہوئے وہاں کے سرداروں نے ان کی اسی طرح مخالفت کی تھی۔ (البحر المحیط الانعام تحت الایۃ: ۱۲۳ ۴ / ۲۱۷)