Surah Al Anam Ayat 159 (6:159)
The Cattle · Juz 8 · Makki
اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍؕ-اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ 159
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور خود مختلف گروہ بن گئے اے حبیب! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ ان کا معاملہ صرف اللہ کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کیاکرتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جنہوں نے اپنے دین میں جدا جدا راہیں نکالیں او رکئی گروہ ہوگئے اے محبوب تمہیں ان سے کچھ علا قہ نہیں ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کرتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{ ان الذین فرقوا دینهم:بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔} اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں سے کون لوگ مراد ہیں اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ان میں سے دو قول درج ذیل ہیں : (1)… حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں ’’ان لوگوں سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بعثت سے پہلے وہ ایک دوسرے سے ا ختلاف کرتے تھے اور بعد میں مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ (تفسیر ابن ابی حاتم الانعام تحت الایۃ: ۱۵۹ ۵ / ۱۴۳۰) (2)… حضرت حسن بصری رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ان سے تمام مشرکین مراد ہیں کیونکہ ان میں سے بعض نے بتوں کی پوجا کی اور کہا کہ یہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہماری سفارش کریں گے۔ بعض نے فرشتوں کی عبادت کی اور کہا کہ فرشتے اللہ تعالی کی بیٹیاں ہیں اور بعض نے ستاروں کی پرستش کی تو یہ ان کی دین میں تفریق ہے۔ (خازن الانعام تحت الایۃ: ۱۵۹ ۲ / ۷۲) فرقہ بندی کا سبب اور حق پر کون حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’اس ایت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم دیا ہے اور انہیں اختلاف اور فرقہ بندی سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ ان سے پہلے لوگ اللہ عزوجل کے دین میں جھگڑنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ (تفسیر ابن ابی حاتم الانعام تحت الایۃ: ۱۵۹ ۵ / ۱۴۳۰) خلاصہ یہ کہ اس ایت میں مسلمانوں کو ایک نظریے پر متفق ہونے دین میں فرقہ بندی اور بدعات اختیار کرنے سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ فی زمانہ بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اسلام میں فرقہ بندی کیوں ہے اور ان میں حق پر کون ہے اس سلسلے میں چند باتیں ذہن نشین کر لیجئےان شاء اللہ! اپ پر خود ہی واضح ہو جائے گا کہ فرقہ بندی کا اصل سبب کیا ہے اور مختلف فرقوں میں سے حق پر کونسا فرقہ ہے پہلی بات : یہ امت کبھی گمراہی پر جمع نہ ہو گی۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ان امتی لا تجتمع علی ضلالۃ فاذارایتم اختلافا فعلیکم بالسواد الاعظم‘‘میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی جب تم اختلاف دیکھو تو سب سے بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔ (ابن ماجہ کتاب الفتن باب السواد الاعظم۴ / ۳۲۷ الحدیث:۳۹۵۰) دوسری بات: حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صدیوں پہلے ہی اس اختلاف اور فرقہ بندی کے بارے میں پیشین گوئی فرما دی تھی چنانچہ حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’والذی نفس محمد بیدہ لتفترقن امتی علی ثلا ث وسبعین فرقۃ واحدۃ فی الجنۃ وثنتان وسبعون فی النار قیل یا رسول اللہ من ہم قال الجماعۃ‘‘اس ذات کی قسم !جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کی جان ہے میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی (ان میں سے) ایک جنت میں جائے گا اور 72جہنم میں جائیں گے۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) وہ جنتی کون ہوں گے ارشاد فرمایا :وہ جماعت ہے۔( ابن ماجہ کتاب الفتن باب افتراق الامم۴ / ۳۵۲ الحدیث: ۳۹۹۲) واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اختلاف امت کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہ عین حق اور صواب پر مبنی تھا۔ تیسری بات:یہ بات انتہائی قابل غور ہے کہ اس دور اختلاف میں حق پسند اور نجات پانے والے گروہ کا پتا کیسے چلے گا کس طرح معلوم ہو گا کہ موجودہ فرقوں میں حق پر کون ہے۔ اس کی رہنمائی بھی حدیث پاک میں کر دی گئی ہے کہ ’’اذا رایتم اختلافا فعلیکم بالسواد الاعظم‘‘جب تم اختلاف دیکھو تو سب سے بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔ (ابن ماجہ کتاب الفتن باب السواد الاعظم۴ / ۳۲۷ الحدیث: ۳۹۵۰) اس روایت میں اختلاف سے مراد اصولی اختلاف ہیں جس میں ’’کفر و ایمان‘‘ اور ’’ہدایت وضلالت ‘‘ کا فرق پایا جائے فروعی اختلاف ہر گز مراد نہیں کیونکہ وہ تو رحمت ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے ’’اختلاف امتی رحمۃ‘‘ میری امت کا (فروعی) اختلاف رحمت ہے۔( کنز العمال کتاب العلم قسم الاقوال ۵ / ۵۹ الحدیث: ۲۸۶۸۲ الجزء العاشر) اس تفصیل کو ذہن میں رکھ کر موجودہ اسلامی فرقوں میں اس بڑے فرقے کو تلاش کیجئے جو باہم اصولوں میں مختلف نہ ہوں اور جس قدر اسلامی فرقے اس کے ساتھ اصولی اختلاف رکھتے ہوں وہ ان سب میں بڑا ہو۔ اپ کو اہلسنت و جماعت کے سوا کوئی نہ ملے گا جس میں حنفی شافعی مالکی حنبلی قادری چشتی سہروردی نقشبندی اشعری ماتریدی سب شامل ہیں یہ سب اہلسنت ہیں اور ان کے مابین کوئی ایسا اصولی اختلاف نہیں جس میں کفر و ایمان یا ہدایت و ضلال کا فرق پایا جائے لہذا اس پر فتن دور میں حدیث مذکور کی رو سے سواد اعظم اہلسنت و جماعت ہے اور اس کا حق پر ہونا بھی ثابت ہوا۔