Surah Al Anam Ayat 160 (6:160)
The Cattle · Juz 8 · Makki
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَاۚ-وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ 160
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہیں اور جو کوئی برائی لائے تو اسے صرف اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیاجائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں اور جو برائی لائے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اس کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔
Tafseer (Urdu)
{ من جآء بالحسنة:جو ایک نیکی لائے۔} یعنی ایک نیکی کرنے والے کو دس نیکیوں کی جزا اور یہ کوئی انتہائی مقدار نہیں بلکہ یہ تو فضل الہی کی ابتدا ہے۔ اللہ تعالی جس کے لئے جتنا چاہے اس کی نیکیوں کو بڑھائے ایک کے سات سو کرے یا بے حساب عطا فرمائے۔ ثواب کے درجات: اس ایت سے متعلق علامہ عبد الرؤف مناوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اس ایت میں جس اضافے کا وعدہ کیا ہے یہ اس کا کم ازکم حصہ ہے۔ (فیض القدیر حرف الہمزۃ ۲ / ۳۱۳ تحت الحدیث: ۱۷۶۳) ایک اورمقام پرارشاد فرماتے ہیں : ایت سے مرادکہ ’’جو ایک نیکی لائے‘‘ کے مقابلے میں ثواب کے مراتب میں سے اقل مرتبے کا بیان ہے اور اس کے اکثر مرتبے کی کوئی انتہا نہیں۔ (فیض القدیر حرف المیم ۶ / ۱۸۸ تحت الحدیث: ۸۷۳۱) حضرت ملا علی قاری رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ظاہر یہ ہے کہ یہ اقل (یعنی کم از کم) اضافہ ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح کتاب الصلاۃ باب صلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفضلہا الفصل الاول ۳ / ۱۰ تحت الحدیث: ۹۲۱) ایک اور مقام پر فرمایا ’’اور وہ زیادتی کا قلیل مرتبہ ہے جس کا وعدہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں کیا گیا ہے’’ من جآء بالحسنة فله عشر امثالها ‘‘جو ایک نیکی لائے تو اس کے لئے اس جیسی دس ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح کتاب فضائل القران الفصل الثانی ۴ / ۶۴۷ تحت الحدیث: ۲۱۳۷) حضرت علامہ عبد الرحمن بن شہاب الدین بغدادی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :’’ نیکی کا دس گنا اضافہ تمام نیکیوں کے لئے لازم ہے اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان عالیشان ہے’’ من جآء بالحسنة فله عشر امثالها ‘‘ جو ایک نیکی لائے تو اس کے لئے اس جیسی دس ہیں۔‘‘(جامع العلوم والحکم الحدیث السابع والثلاثون ص۴۳۶) علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت میں جو جزا بیان ہوئی یہ اس کے لئے ہے جو نیکی یا گناہ کرے البتہ جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور اسے کر نہ سکا تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور جس نے گناہ کا ارادہ کیا لیکن گناہ کیا نہیں اب اگر اس نے اللہ عزوجل کے خوف کی وجہ سے گناہ چھوڑا ہو گا تو اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھی جائے گی ورنہ کچھ نہ لکھا جائے گا۔ (تفسیر صاوی الانعام تحت الایۃ: ۱۶۰ ۲ / ۶۵۲) یاد رہے کہ ثواب کے اکثر درجات کی کوئی حد نہیں قران پاک میں سات سو گنا کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا کہ اللہ عزوجل جس کیلئے چاہے اس سے بھی زیادہ بڑھا دے اور قران پاک میں صبر پر بے حساب اجر کا وعدہ ہے اور حدیث میں مکہ سے پیدل حج کرنے پر ہر قدم پر سات کروڑ نیکیوں کی بشارت ہے۔ { و هم لا یظلمون:اور ان پر ظلم نہیں کیاجائے گا۔} ارشاد فرمایا کہ ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا خواہ اس طرح کہ اطاعت گزار اور نیک اعمال کرنے والے کے ثواب میں کمی کر دی جائے اور نافرمان اور گنہگار کو اس کے جرم سے زیادہ سزا دے دی جائے یااس طرح کہ انہیں جرم کئے بغیر عذاب دیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفار کے چھوٹے بچے جو بچپن میں فوت ہو جائیں وہ دوزخی نہیں کیونکہ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ ظلم کے معنی: ظلم کے دو معنی ہیں : (1)… کسی غیر کی چیز میں بلا اجازت تصرف کرنا۔ (صاوی الانعام تحت الایۃ: ۱۶۰ ۲ / ۶۵۲) (2)… بے قصور کو سزا دے دینا یا کام لے کر اس کی اجرت نہ دینا۔ (جامع العلوم والحکم الحدیث الرابع والعشرون ص۲۸۱ التیسیر شرح جامع صغیر حرف العین ۲ / ۱۳۵) ان جیسی ایات میں ظلم کے دوسرے معنی مراد ہیں اور حدیث پاک کہ اگر خدا تمام دنیا کو دوزخ میں بھیج دے تو ظالم نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر چیز اللہ عزوجل کی ملکیت ہے اور اللہ عزوجل اپنی ملکیت میں جیسے چاہے تصرف فرمائے۔