Surah Al Anam Ayat 32 (6:32)
The Cattle · Juz 7 · Makki
وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ-وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے اور بیشک آخرت والا گھر ڈرنے والوں کے لئے بہتر ہے تو کیا تم سمجھتے نہیں؟۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل کود اور بیشک پچھلا گھر بھلا ان کے لئے جو ڈرتے ہیں تو کیا تمہیں سمجھ نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ و ما الحیوة الدنیا الا لعب و لهو:اور دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے۔} ارشاد فرمایا کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے جسے بقا نہیں بہت جلد گزر جاتی ہے جبکہ نیکیاں اور طاعتیں اگرچہ مومنین سے دنیا ہی میں واقع ہوں لیکن وہ امور آخرت میں سے ہیں۔ مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی چنانچہ اس ایت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ’’ دنیا کی زندگی وہ ہے جو نفس کی خواہشات میں گزر جائے اور جو زندگی اخرت کے لئے توشہ جمع کرنے میں صرف ہو وہ دنیا میں زندگی تو ہے مگر دنیا کی زندگی نہیں لہذا انبیاء و صالحین کی زندگی دنیا کی نہیں بلکہ دین کی ہے۔ غرضیکہ غافل اور عاقل کی زندگیوں میں بڑا فرق ہے۔ (نور العرفان الانعام تحت الایۃ: ۳۲ ص۲۰۸) اخرت کو بھلا دینے والے دنیا داروں کی مثال: امام غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے اس بات کو بڑے پیارے انداز میں سمجھایا ہے چنانچہ کیمیائے سعادت میں ارشاد فرماتے ہیں:دنیا داروں کا دنیوی کاروبار میں مشغول ہو کر اخرت کو بھلا دینے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی گروہ کشتی میں سوار ہوا اور وہ کشتی کسی جزیرے پر جا کر رکی لوگوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ضروری حاجات سے فارغ ہونےکے لئے جزیرے پر اتر گئے۔ ملاح نے اعلان کیا: یہاں زیادہ دیر نہیں رکیں گے لہذا وقت ضائع کئے بغیر صرف طہارت وغیرہ سے فارغ ہو کر جلدی واپس پلٹیں۔ جزیرے میں اترنے کے بعد لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے: (1)…کچھ لوگ جزیر ے میں سیر و سیاحت اور اس کے عجائبات دیکھنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ انہیں کشتی میں واپس انا یاد نہ رہا حتی کے وہیں بھوک پیاس سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے اور درندوں کی غذا بنے۔ (2)…عقلمند لوگ اپنی حاجات سے جلدی فارغ ہو کر کشتی میں اپنی من پسند جگہ پر اکر بیٹھ گئے۔ (3)…کچھ لوگ جزیرے کے انوار اور عجیب و غریب قسم کے پھولوں غنچوں شگوفوں وہاں کے پرندوں کے اچھے نغمات سنتے اور وہاں کے قیمتی پتھروں کو دیکھتے رہ گئے اور ان میں سے بعض ایسے بھی تھے کہ جنہوں نے صرف دیکھنے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ وہاں سے بہت سی چیزیں اپنے ساتھ ا ٹھا لائے۔ اب کشتی میں مزید جگہ تنگ ہوئی تو اپنے ساتھ لانے والی اشیاء کو کشتی میں رکھنے کی جگہ نہ پا سکے تو مجبورا انہیں سروں پر اٹھانا پڑا۔ ابھی دو دن ہی گزرے تھے کہ ان اشیاء کی رنگت میں تبدیلی شروع ہو گئی اور خوشبو کی بجائے اب بدبو انے لگی اب انہیں کہیں پھینکنے کی جگہ بھی نہ تھی نادم و پشیمان اسی طرح اپنے سروں پر اٹھانے پر مجبور تھے۔ پہلے گروہ کی مثال کفار و مشرکین اور بد عقیدہ لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے اپ کو کلی طور پر دنیا کے سپرد کر دیا اور اسی کے ہو کر رہ گئے اللہ تعالی اور یوم اخرت کوفراموش کر دیا انہوں نے دنیا کی زندگی کو اخرت کے مقابلے میں محبوب رکھا۔ دوسرا گروہ ان عقلمندوں کا تھا جسے مومنین سے تعبیر کیا گیا وہ طہارت سے فارغ ہوتے ہی کشتی میں سوار ہوئے اور عمدہ سیٹوں کو پا لیا( یعنی جنت کے مستحق ہوئے۔)تیسرے گروہ کی مثال خطاکاروں کی ہے کہ انہوں نے ایمان کو تو محفوظ رکھا مگر دنیا میں ملوث ہونے سے بچ نہ سکے۔(کیمیائے سعادت عنوان سوم: معرفت دنیا فصل چہارم ۱ / ۹۵-۹۶ ملخصا)