Surah Al Anam Ayat 33 (6:33)
The Cattle · Juz 7 · Makki
قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ 33
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تمہیں رنجیدہ کرتی ہیں تو بیشک یہ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں کاانکار کرتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ قد نعلم:ہم جانتے ہیں۔} اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ اخنس بن شریق او ر ابوجہل کی اپس میں ملاقات ہوئی تو اخنس نے ابوجہل سے کہا اے ابوالحکم! (کفار ابوجہل کو ابوالحکم کہتے تھے) یہ تنہائی کی جگہ ہے اور یہاں کوئی ایسا نہیں جو میری تیری بات پر مطلع ہوسکے اب تو مجھے ٹھیک ٹھیک بتا کہ محمدصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سچے ہیں یا نہیں ابوجہل نے کہا کہ ’’ اللہ عزوجل کی قسم! محمدصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بے شک سچے ہیں کبھی کوئی جھوٹا حرف ان کی زبان پر نہیں آیا مگر بات یہ ہے کہ یہ قصی (حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اباواجداد میں سے ایک بزرگ ہیں ) کی اولاد ہیں اور حج اور خانہ کعبہ کے متعلق تو سارے اعزاز انہیں حاصل ہی ہیں اب نبوت بھی انہیں میں ہوجائے تو باقی قریشیوں کے لئے اعزاز کیا رہ گیا۔( تفسیر بغوی الانعام تحت الایۃ: ۳۳ ۲ / ۷۷۔) ترمذی شریف میں حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ’’ ابوجہل نے سرورکائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہا ہم آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تکذیب نہیں کرتے ہم تو اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں جوآپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لائے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ الانعام ۵ / ۴۵ الحدیث: ۳۰۷۵۔) اور اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب!صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم جانتے ہیں کہ ان کافروں کی باتیں اپ کو رنجیدہ کرتی ہیں لیکن اپ تسلی رکھیں کیونکہ قوم اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صداقت کا اعتقاد رکھتی ہے ا سی لئے پوشیدہ طور پر یہ لوگ اپ کو نہیں جھٹلاتے البتہ حسد اور عناد کی وجہ سے یہ ظالم لوگ علانیہ طور پر اللہ تعالی کی ایتوں کا انکار کرتے ہیں۔ (خازن الانعام تحت الایۃ: ۳۳ ۲ / ۱۳۔) اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہوتے ہیں کہ’’ اے حبیب اکرم !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم آپ کی تکذیب آیات الہیہ کی تکذیب ہے اور تکذیب کرنے والے ظالم ہیں یعنی اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو جھٹلانا اللہ عزوجل کو جھٹلانا ہے۔