Surah Al Anam Ayat 35 (6:35)
The Cattle · Juz 7 · Makki
وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَٜ 35
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر ان کا منہ پھیرنا آپ پر شاق گزرتا ہے تو اگر تم سے ہوسکے توزمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی تلاش کرکے ان کے پاس کوئی نشانی لے آؤ اوراگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے! ہر گزبے خبر نہ بن۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر ان کا منہ پھیرنا تم پر شاق گزرا ہے تو اگر تم سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلو یا آسمان میں زینہ پھر ان کے لیے نشانی لے آؤ اور اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے تو ہرگز نادان نہ بن۔
Tafseer (Urdu)
{ و ان كان كبر علیك:اور اگر تم پر شاق گزرتا ہے۔}سرکار مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بہت خواہش تھی کہ سب لوگ اسلام لے آئیں۔جو اسلام سے محروم رہتے ہیں ان کی محرومی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر بہت شاق رہتی تھی ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو رنج و تکلیف سے بچانے کیلئے اس انداز میں فرمایا گیا کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سب لوگوں کے ایمان لانے کی طرف سے امید منقطع فرمالیں اور یوں رنج و غم سے نجات پائیں چنانچہ اس پر جو فرمایا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اگر ان کافروں کا منہ پھیرنا اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بے پناہ رحمت اور شفقت کی وجہ سے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر شاق گزرتا ہے تو اگر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کے ایمان لانے کی خاطرزمین میں کوئی سرنگ یا اسمان میں کوئی سیڑھی تلاش کرکے ان کافروں کے پاس ان کی کوئی مطلوبہ نشانی لاسکتے ہیں تو لا کر دیکھ لیں۔ یہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے لہذا اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تسلیم و رضا کے مقام پر رہ کر اس معاملے کو اللہ عزوجل کے حوالے کردیں اور اگر اللہ عزوجل چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا لیکن اللہ عزوجل نے ایسا نہیں کیا۔