Surah Al Anam Ayat 48 (6:48)
The Cattle · Juz 7 · Makki
وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ 48
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے ہوتے ہیں تو جو ایمان لائیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان پرنہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم۔
Tafseer (Urdu)
{ و ما نرسل المرسلین الا مبشرین:اور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبری دینے والے ہوتے ہیں۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کو اس لئے نہیں بھیجتے کہ کفار ان سے اپنی من مرضی کے معجزات طلب کرتے پھریں بلکہ اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کو اطاعت پر ثواب کی بشارت اور نافرمانی کرنے پر عذاب کی وعید سنائیں تو جو اپنے کفر کو چھوڑ کر ان پر ایمان لے ایا اور ا س نے اپنے اعمال کی اصلاح کر لی تو ان پر دنیوی یا اخروی عذاب کاکوئی خوف ہے اور نہ وہ ثواب ضائع ہونے کے اندیشے سے غمگین ہوں گے اور جنہوں نے ہماری ان ایتوں کو جھٹلایا جو ہمارے رسولوں نے ان کے سامنے بیان کیں تو انہیں ان کی مسلسل نافرمانی کے سبب عذاب پہنچے گا۔ (روح البیان الانعام تحت الایۃ: ۴۸ ۳ / ۳۲) اخروی نجات کے لئے کیا چیز ضروری ہے: اس سے معلوم ہوا کہ اخروی نجات کے لئے ایمان اور نیک اعمال دونوں ضروری ہیں ایمان لانے کے بعد خود کونیک اعمال سے بے نیاز سمجھنے والے اور ایمان قبول کئے بغیر اچھے اعمال کو اپنی نجات کے لئے کافی سمجھنے والے دونوں احمقوں کی دنیاکے باسی ہیں البتہ ان دونوں صورتوں میں صاحب ایمان قطعا بے ایمان سے بہتر ہے۔ امام غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’جب بندہ ایمان لاتا ہے اور ا س کے بعد اچھے اعمال کرتا اور برائیوں سے باز رہتا ہے نیز امید اور خوف کے درمیان اس طرح متردد رہتا ہے کہ اسے عمل قبول نہ ہونے کا ڈر ہوتا ہے اور وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ وہ ہمیشہ نیک عمل نہ کر سکے اوراس کا خاتمہ اچھا نہ ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے اس بات کی امید بھی رکھتا ہے کہ وہ اسے مضبوط او ر ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گااس کے دین کوموت کی سختیوں سے بچائے گا حتی کہ وہ توحید پر دنیا سے رخصت ہو جائے گا اور باقی کی زندگی اس کے دل کو خواہشات سے محفوظ رکھے گا تاکہ وہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو ایسا ادمی عقلمند ہے لیکن ا س کے علاوہ لوگ دھوکے میں ہیں اور عنقریب عذاب کو دیکھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون شخص سب سے زیادہ بھٹکا ہو اتھا اور کچھ وقت کے بعد اس کی خبر تم ضرور جان لو گے اس وقت وہ کہیں گے ’’ ربنا ابصرنا و سمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون‘‘(سجدہ:۱۲) ترجمہ کنزالعرفان: اے ہمارے رب! ہم نے دیکھا اور سنا تو ہمیں واپس بھیج دے تاکہ نیک کام کریں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں۔ یعنی ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ جس طرح زمین میں بیج ڈالے اور ہل چلائے بغیر فصل پیدا نہیں ہوتی اسی طرح اخرت میں اجر و ثواب اچھے عمل کے بغیر نہیں ملتا اے اللہ !عزوجل تو ہمیں واپس بھیج دے ہم اچھے عمل کریں گے اب ہمیں تیری اس بات کی صداقت معلوم ہوگئی : ’’و ان لیس للانسان الا ما سعى(۳۹) و ان سعیه سوف یرى‘‘(نجم:۳۹۴۰) ترجمہ کنزالعرفان:اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔اور یہ کہ اس کی کو شش عنقر یب دیکھی جائے گی۔ (لیکن اس وقت ان کی یہ باتیں انہیں کوئی فائدہ نہ دیں گی اور نہ ہی انہیں واپس بھیجا جائے گا)۔( احیاء علوم الدین کتاب ذم الغرور بیان ذم الغرور وحقیقتہ وامثلتہ ۳ / ۴۷۲-۴۷۳)