Surah Al Anam Ayat 52 (6:52)
The Cattle · Juz 7 · Makki
وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ 52
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاوران لوگوں کو دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں ۔آپ پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں ۔ پھر آپ انہیں دور کریں تو یہ کام انصاف سے بعید ہے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ و لا تطرد الذین یدعون ربهم بالغدوة و العشی : اور ان لوگوں کو دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔} اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ کفار کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آئی انہوں نے دیکھا کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اردگرد غریب صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کی ایک جماعت حاضر ہے جو ادنی درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس بات کو منظور نہ فرمایا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن ماجہ کتاب الزہد باب مجالسۃ الفقرائ ۴ / ۴۳۵ الحدیث: ۴۱۲۷ تفسیر بغوی الانعام تحت الایۃ: ۵۲ ۲ / ۸۱۔) اور فرمایا گیا کہ ان مخلص وغریب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو اپنی بارگاہ سے دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب عزوجل کو اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں۔ ان غریب صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کا رزق اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر نہیں کہ غربت کی وجہ سے انہیں دور کردیا جائے اور نہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذمہ داری ان پر ہے۔ سب کا حساب اللہ عزوجل پر ہے وہی تمام خلق کو روزی دینے والا ہے اور اس کے سوا کسی کے ذمہ کسی کا حساب نہیں۔ اس ایت کادوسرا معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ کفار نے غریب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم پر طعن مراد لیا تھا کہ یہ تو غربت کی وجہ سے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں کہ یہاں کچھ روزی روٹی کا انتظام ہوجاتا ہے یہ مخلص نہیں ہیں۔ اس پر پہلے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے اخلاص کا بیان فرمایا کہ یہ اللہ عزوجل کی رضا چاہتے ہوئے دن رات اس کی عبادت کرتے ہیں پھر فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ پر ان کے احوال کی تفتیش لازم نہیں کہ یہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ مخلص ہیں یا نہیں (تفسیر کبیر الانعام تحت الایۃ: ۵۲ ۴ / ۵۴۲ ملتقطا)بلکہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کو اپنے فیض صحبت سے نوازتے رہیں اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ ضعیف فقراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے۔