Surah Al Anam Ayat 53 (6:53)
The Cattle · Juz 7 · Makki
وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ-اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ 53
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی کہ یہ کہیں : کیا یہ لوگ ہیں جن پرہمارے درمیان میں سے اللہ نے احسان کیا ؟کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب نہیں جانتا؟۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یونہی ہم نے ان میں ایک کودوسرے کے لئے فتنہ بنایا کہ مالدار کافر محتاج مسلمانوں کو دیکھ کر کہیں کیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں سے کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو۔
Tafseer (Urdu)
{ و كذلك فتنا بعضهم ببعض: اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے ازمائش کی۔} پہلی ایت کے حوالے سے یہاں فرمایا گیا کہ غریبوں کے ذریعے امیروں کی ازمائش ہوتی رہتی ہے اور گزشتہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے ساتھ بھی یہ ہوتا تھا کہ مالدار کافر غریب مسلمانوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کا مذاق اڑاتے اور ہمیشہ سے کفار کا یہ دستور رہا ہے کہ مسلمانوں کے فقر کو دیکھ کر اسلام کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اسلام سچا اور کفر جھوٹا ہے تو مسلمان فقیر اور کفار مالدار کیوں ہیں غریبوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے نصیحت: اس سے معلوم ہوا کہ امیری و غریبی کو حق کا پیمانہ قرار نہیں دیا جاسکتانیز سابقہ ایت کے شان نزول اور اس ایت کے درس سے بہت سے مذہبی لوگوں اور خود امیروں کو بھی درس حاصل کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے زمانے میں بھی یہ رحجان موجود ہے کہ اگر امیر اتا ہے تو اس کی تعظیم کی جاتی ہے جبکہ غریب کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ غریب کی دل شکنی کی جاتی ہے اور امیر کے اگے بچھے بچھے جاتے ہیں اور خود امیروں کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ ہمیں ذرا ہٹ کر ڈیل کیا جائے اور ہمارے لئے اسپیشل وقت نکالا جائے اور ہمارے انے پر مولوی ادمی ساری مصروفیت چھوڑ کر اس کے پیچھے پھرتا رہے۔ غریب ادمی پاس بیٹھ جائے تو امیر اپنے سٹیٹس کے خلاف سمجھتا ہے اسے غریب کے کپڑوں سے بو اتی ہے غریب کا پاس بیٹھنا اس کی طبیعت خراب کردیتا ہے غریب سے ہاتھ ملانا اس امیر کے ہاتھ پر جراثیم چڑھا دیتا ہے۔ الغرض یہ سب باتیں غرور وتکبر کی ہیں ان سے بچنا لازم وضروری ہے۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور ایک مغرور امیر: ایک صاحب اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ بھی کبھی کبھی ان کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ ان کے یہاں تشریف فرما تھے کہ ان کے محلے کا ایک بے چارہ غریب مسلمان ٹوٹی ہوئی پرانی چارپائی پر جو صحن کے کنارے پڑی تھی جھجکتے ہوئے بیٹھا ہی تھا کہ صاحب خانہ نے نہایت کڑوے تیوروں سے ا س کی طرف دیکھنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ ندامت سے سر جھکائے اٹھ کر چلا گیا۔ اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ کو صاحب خانہ کی اس مغرورانہ روش سے سخت تکلیف پہنچی مگر کچھ فرمایا نہیں کچھ دنوں بعد وہ صاحب اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ کے یہاں ائے تو اپ نے اسے اپنی چارپائی پر جگہ دی۔ وہ بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں کریم بخش حجام اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ کا خط بنانے کے لئے ائے وہ اس فکر میں تھے کہ کہاں بیٹھوں اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا: بھائی کریم بخش! کیوں کھڑے ہو مسلمان اپس میں بھائی بھائی ہیں اور ان صاحب کے قریب بیٹھنے کا اشارہ فرمایا۔ کریم بخش حجام ان کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ اب ان صاحب کے غصہ کی یہ کیفیت تھی کہ جیسے سانپ پھنکاریں مارتا ہو اور فورا اٹھ کر چلے گئے پھر کبھی نہ ائے۔ (حیات اعلی حضرت ۱ / ۱۰۸ملخصا) اپنی عادتوں پر غور کرکے ایک مرتبہ پھر اس ایت کا ترجمہ دیکھ لیں فرمایا: اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے ازمائش کی تاکہ یہ (مالدار کافر غریب مسلمانوں کو دیکھ کر) کہیں : کیا یہ لوگ ہیں جن پرہمارے درمیان میں سے اللہ نے احسان کیاکیا اللہ شکر گزاروں کو خوب نہیں جانتا