Surah Al Anam Ayat 56 (6:56)
The Cattle · Juz 7 · Makki
قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-قُلْ لَّاۤ اَتَّبِـعُ اَهْوَآءَكُمْۙ-قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ 56
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اس کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ تم فرماؤ، میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا۔ (اگر یوں ہوتا) تو میں بھٹک جاتا اور ہدایت یافتہ لوگوں سے نہ ہوتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تم فرماؤ میں تمہاری خواہش پر نہیں چلتا یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں۔
Tafseer (Urdu)
{ قل انی نهیت:تم فرماؤ: مجھے منع کیا گیا ہے۔}اس سے پہلی ایت میں بیان ہو ا کہ اللہ تعالی تفصیل کے ساتھ ایتیں بیان فرماتا ہے تاکہ حق ظاہر ہو جائے اور مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے اور اس ایت میں بیان فرمایا گیا کہ اللہ تعالی نے مجرموں کے راستے پر چلنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کافروں سے فرما دیں کہ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اس کی عبادت کروں جن کی تم اللہ تعالی کے سوا عبادت کرتے ہو اور تمہارا ان کی عبادت کرنا بھی کسی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض خواہش پرستی اور اپنے باپ دادا کی اندھی پیروی کی وجہ سے ہے کیونکہ جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ جمادات اور پتھر ہیں جن کامرتبہ انسان سے انتہائی کم ہے اور اعلی مرتبے والے کا کم مرتبے والے کی عبادت کرنا ایسا کام ہے کہ عقل بھی اس کا رد کرتی ہے۔اگر میں نے تمہاری خواہشوں کی پیروی کی ہوتی تو میں راہ حق سے بھٹک جاتا اور ہدایت یافتہ لوگوں سے نہ ہوتا۔ (تفسیر کبیر الانعام تحت الایۃ: ۵۷ ۵ / ۸)