Surah Al Anam Ayat 65 (6:65)
The Cattle · Juz 7 · Makki
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍؕ-اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ 65
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا مختلف گروہ بنا کر آپس میں لڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو ہم کس طرح بار بار آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے تلے سے یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے دیکھو ہم کیونکر طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں کہ کہیں ان کو سمجھ ہو ۔
Tafseer (Urdu)
{ هو القادر: وہی قادر ہے۔}اس ایت میں اللہ تعالی کی وحدانیت کی ایک اور دلیل بیان کی گئی ہے چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اے حبیب !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان کافروں سے فرما دیں کہ اللہ تعالی اس پر قادر ہے کہ تمہارے شرک کی وجہ سے تم پر تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمادے جیسے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم اور اصحاب فیل یعنی ابرہہ کے لشکر کے ساتھ کیا گیا یا تمہارے قدموں کے نیچے سے عذاب بھیجے جیسے فرعون کو غرق کیا گیا اور قارون کو زمین میں دھنسا دیا گیا یا مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کر کے اپس میں لڑا دے اور تمہیں ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ دیکھیں کہ ہم کس طرح قران مجید میں بار بار مختلف انداز سے وعدہ اور وعید کی ایتیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں اور اپنی سرکشی و عناد سے باز ا جائیں۔ (تفسیر کبیر الانعام تحت الایۃ: ۶۵ ۵ / ۲۰ روح البیان الانعام تحت الایۃ: ۶۵ ۳ / ۴۷ ملتقطا) مسلمانوں کی باہمی لڑائی کا ایک سبب: یاد رہے کہ یہ اللہ تعالی کی سنت جاریہ ہے کہ وہ (اپنی نافرمانی کرنے کی سزا میں ) مسلمانوں کو کافروں سے اور کافروں کو مسلمانوں سے لڑوا دیتا ہے اسی طرح کافروں کو کافروں سے اور مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑوا دیتا ہے جیسا کہ ہمارے زمانے میں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ’’ جب ایت کا یہ حصہ نازل ہوا کہ’’ وہ قادر ہے تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے‘‘ تو سرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ حصہ نازل ہوا کہ’’ یا تمہارے پاوں کے نیچے سے‘‘ تو فرمایا میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ حصہ نازل ہوا’’ یا تمہیں لڑوا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے‘‘ تو فرمایا: یہ آسان ہے۔ (بخاری کتاب التفسیر باب قل ہو القادر علی ان یبعث علیکم۔۔۔ الخ ۳ / ۲۲۱ الحدیث: ۴۶۲۸) اور صحیح مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مسجد بنی معاویہ میں دو رکعت نماز ادا فرمائی اور اس کے بعد طویل دعا کی پھر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں نے اپنے رب عزوجل سے تین سوال کئے ان میں سے صرف دو قبول فرمائے گئے ۔ ایک سوال تو یہ تھا کہ’’ میری امت کو قحط عام سے ہلاک نہ فرمائے‘‘ یہ قبول ہوا۔دوسرا یہ تھا کہ’’ انہیں غرق کرکے عذاب نہ دے‘‘یہ بھی قبول ہوا۔ تیسرا سوال یہ تھا کہ’’ ان میں باہم جنگ و جدال نہ ہو ‘‘یہ قبول نہیں ہوا ۔ (مسلم کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ہلاک ہذہ الامۃ بعضہم ببعض ص۱۵۴۴ الحدیث: ۲۰(۲۸۹۰))