Surah Al Anam Ayat 74 (6:74)
The Cattle · Juz 7 · Makki
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةًۚ-اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ 74
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے فرمایا، کیا تم بتوں کو (اپنا) معبود بناتے ہو۔ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا تم بتوں کو خدا بناتے ہو بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں۔
Tafseer (Urdu)
{ و اذ قال ابرهیم لابیه: اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ سے فرمایا۔} یہ آیت مشرکین عرب پر حجت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو قابل تعظیم جانتے تھے اور ان کی فضیلت کے معترف تھے انہیں دکھایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام بت پرستی کو کتنا بڑا عیب اور گمراہی بتاتے ہیں اور اپنے چچا ازر سے فرما رہے ہیں کہ کیا تم بتوں کو اپنا معبود بناتے ہو بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔ تو جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام بتوں سے اس قدر نفرت کرتے ہیں تو اے اہل مکہ! اگر تم ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کومانتے ہو تو تم بھی بت پرستی چھوڑ دو۔ ازر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا چچا تھا یا باپ: یہاں ایت میں ازر کیلئے ’’اب‘‘ کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا ایک معنی ہے ’’باپ‘‘ اور دوسرا معنی ہے ’’چچا‘‘ اور یہاں اس سے مراد چچا ہے جیسا کہ قاموس میں ہے : آزر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے چچا کا نام ہے۔ (القاموس المحیط باب الراء فصل الہمزۃ ۱ / ۴۹۱ تحت اللفظ: الازر) اور امام جلال الدین سیوطی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے ’’مسالک الحنفاء ‘‘ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ نیزچچا کو باپ کہنا تمام ممالک میں معمول ہے بالخصوص عرب میں اور قران و حدیث میں بھی چچا کو باپ کہنے کی مثالیں موجود ہیں جیساکہ قرآن کریم میں ہے ’’ نعبد الهك و اله ابآىك ابرهم و اسمعیل و اسحق الها واحدا‘‘(بقرہ:۱۳۳) ترجمہ کنزالعرفان:ہم اپ کے معبود اور اپ کے اباو و اجداد ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے۔ اس میں حضرت اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام کو حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے آباء میں ذکر کیا گیا ہے حالانکہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے چچا ہیں۔ اور حدیث شریف میں ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ ردواعلی ابی‘‘ میرے باپ کو میرے پاس لوٹا دو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ کتاب المغازی حدیث فتح مکۃ ۸ / ۵۳۰ الحدیث:۳) یہاں ’’ابی ‘‘ سے حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ مراد ہیں جو کہ حضورا قدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے چچا ہیں۔