Surah Al Anam Ayat 75 (6:75)
The Cattle · Juz 7 · Makki
وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ 75
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے ہیں اور اس لیے کہ وہ عینُ الیقین والوں میں سے ہوجائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اس لیے کہ وہ عینُ الیقین والوں میں ہوجائے۔
Tafseer (Urdu)
{ و كذلك نری ابرهیم: اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو دین میں بینائی عطا فرمائی ایسے ہی ہم انہیں آسمانوں اور زمین کے ملک دکھاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ اس سے آسمانوں اور زمین کی مخلوق مراد ہے۔ حضرت مجاہد اور حضرت سیدنا سعید بن جبیررضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ اس سے اسمانوں اور زمین کی نشانیاں مراد ہیں اور وہ اس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو بیت المقدس کے صخرہ پر کھڑا کیا گیا اور اپ کے لئے تمام اسمانوں کا مشاہدہ کھول دیا گیا یہاں تک کہ آپ نے عرش و کرسی اور آسمانوں کے تمام عجائب اور جنت میں اپنے مقام کو معائنہ فرمایا پھر آپ کے لئے زمین کا مشاہدہ کھول دیا گیا یہاں تک کہ آپ نے سب سے نیچے کی زمین تک نظر کی اور زمینوں کے تمام عجائبات دیکھے ۔ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ رویت باطنی نگاہ کے ساتھ تھی یا سر کی انکھوں سے۔ (خازن الانعام تحت الایۃ: ۷۵ ۲ / ۲۸) پھر اس معراج ابراہیمی کا مقصد بیان فرمایا کہ ہم نے یہ نشانیاں انہیں اس لئے دکھائیں کہ وہ دیکھ کر یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں کیونکہ ہر ظاہر و مخفی چیز ان کے سامنے کردی گئی اور مخلوق کے اعمال میں سے کچھ بھی ان سے نہ چھپا رہا۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو عظیم معراج ہوئی مگر ہمارے اقا حضور سیدالعالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اس سے بہت بڑھ کر معراج ہوئی حتی کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ’’ دنا فتدلى(۸) فكان قاب قوسین او ادنى ‘‘کے مقام پر فائز ہوگئے۔