Surah Al Juma Ayat 11 (62:11)
The Congregation, Friday · Juz 28 · Madani
وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَاﰳ انْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآىٕمًاؕ-قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا تواس کی طرف چل دیئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ گئے تم فرماؤ: جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ بہترین روزی دینے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب انھوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا اس کی طرف چل دئیے اور تمہیں خطبہ میں کھڑا چھوڑ گئے تم فرماؤ وہ جو اللہ کے پاس ہے کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ کا رزق سب سے اچھا ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا راوا تجارة او لهوا: اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا ۔} شان نزول:حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے (ہوکرجمعہ کاخطبہ ارشاد فرمارہے) تھے کہ اچانک مدینہ طیبہ میں ایک تجارتی قافلہ اپہنچا (دستور کے مطابق اعلان کیلئے طبل بجایا گیا)تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اصحاب اس کی طرف چل دئیے حتی کہ 12 ادمیوں کے سوامسجد میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ اورحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ ان بارہ افراد میں شامل تھے ۔اس وقت یہ ایت نازل ہوئی ۔( مسلمکتاب الجمعۃباب فی قولہ تعالی:واذا راوا تجارۃ او لہونا انفضوا الیہا۔۔۔الخص۴۲۹الحدیث:۳۸(۸۶۳)) اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب انہوں نے کسی تجارت کے بارے میں جانا یا کھیل کے بارے میں سنا تواس کی طرف چل دیئے اوراپ کو خطبے کی حالت میں منبر پر کھڑا چھوڑ گئے اپ ان سے فرمادیں : جونماز کا اجر و ثواب اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے کی برکت و سعادت ہے جو درحقیقت اللہ تعالی کے پاس ہے وہ کھیل اور تجارت سے بہتر ہے اور چونکہ اللہ تعالی بہترین روزی دینے والا ہے اس لئے تم اسی کی طرف چلو اور اسی سے رزق طلب کرو۔( روح البیان الجمعۃ تحت الایۃ: ۱۱ ۹ / ۵۲۸) یاد رہے کہ جب یہ واقعہ رونما ہوا اس وقت بہت تنگی اور مہنگائی کا دورتھا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اس خیال سے چلے گئے تھے کہ کہیں اجناس ختم نہ ہو جائیں اور وہ انہیں پانے سے رہ جائیں اور ایسے حالات میں اس طرح ہونا ایک فطری امر ہے نیز اس ایت کے نزول سے پہلے اس طرح کے فعل سے کہیں منع بھی نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس ایت کے ذریعے حکم نازل کیا گیا تو حکم کے نزول سے پہلے ایسا کرنا کوئی گناہ نہیں تھا اسی لئے ا س ایت میں اللہ تعالی نے ان کی مذمت نہیں فرمائی بلکہ تربیت فرمائی ہے کہ ایسا کرنا ان کی شان کے لائق نہیں لہذا ان کے اس فعل پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا ۔ نوٹ: اس سے ثابت ہوا کہ خطیب کو کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنا چاہیے۔