Surah Al Juma Ayat 3 (62:3)
The Congregation, Friday · Juz 28 · Madani
وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان سے(بعد والے)دوسرے لوگوں کو( بھی یہ رسول پاک کرتے اور علم دیتے ہیں ) جو ان(موجودہ لوگوں ) سے ابھی نہیں ملے اور وہی بہت عزت والا، بڑا حکمت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان میں سے اوروں کو پاک کرتے اور علم عطا فرماتے ہیں جو ان اگلوں سے نہ ملے اور وہی عزت و حکمت والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اخرین منهم: اور ان سے(بعد والے) دوسرے لوگوں کو۔} اس ایت کا تعلق پہلے والی ایت کے ساتھ ہے اور اس میں مزید ایسے افراد کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پاک کرتے اور علم عطا فرماتے ہیں ۔یاد رہے کہ امیوں میں سے دوسرے لوگوں سے مراد یا تو عجمی ہیں یا وہ تمام لوگ مراد ہیں جو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بعد قیامت تک اسلام میں داخل ہوں گے اور اگلوں سے نہ ملنے سے مراد یہ ہے کہ ان کا زمانہ نہیں پایا بلکہ ان کے بعد آئے ۔( مدارک الجمعۃ تحت الایۃ: ۳ ص۱۲۳۹ خازن الجمعۃ تحت الایۃ: ۳ ۴ / ۲۶۴) دوسرے لوگوں سے عجمی مراد ہونے پر یہ حدیث پاک دلالت کرتی ہےچنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پرسورہ جمعہ نازل ہو ئی اس وقت ہم اپ کی بارگاہ میں حاضر تھے جب اپ نے یہ ایت ’’و اخرین منهم لما یلحقوا بهم‘‘ تلاوت فرمائی توایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جو اگلوں کے ساتھ ابھی نہیں ملے وہ کون لوگ ہیں اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیاحتی کہ اس نے دویاتین بارعرض کیاس وقت ہم میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ پرہاتھ رکھ کرفرمایا:اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگردین ثریا(ستارے)کے پاس بھی ہوتوفرزندان فارس وہاں جائیں گے اور دین کو حاصل کرلیں گے ۔( مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب فضل فارس ص۱۳۷۸ الحدیث: ۲۳۰-۲۳۱(۲۵۴۶)) اس ایت سے معلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فیض صرف صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم تک موقوف نہیں بلکہ تا قیامت رہے گا لوگ ان کی نگاہ کرم سے پاک و صاف ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گےعلم سیکھتے ہیں اور سیکھتے رہیں گے ۔ {ذلك فضل الله: یہ اللہ کا فضل ہے ۔} یعنی رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کی امت کی فضیلت کے بارے میں جو ذکر کیا گیا یہ اللہ تعالی کا فضل ہے وہ جسے چاہے یہ فضل عطا فرمائے اور اللہ تعالی اپنی مخلوق پر بڑے فضل والا ہے کہ اس نے ان کی ہدایت کیلئے اپنے حبیب محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔( صاوی الجمعۃ تحت الایۃ: ۴ ۶ / ۲۱۶۳ خازن الجمعۃ تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۲۶۵ ملتقطا)