Surah Al Juma Ayat 2 (62:2)
The Congregation, Friday · Juz 28 · Madani
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتاہے اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انھیں پاک کرتے ہیں اور انھیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بے شک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
Tafseer (Urdu)
{هو الذی بعث فی الامین رسولا منهم: وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔} ارشاد فرمایاکہ وہی اللہ ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جس کے نسب و شرافت کو وہ اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں ان کا نام پاک محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہےوہ ان کے سامنے قران مجید کی آیتیں تلاوت فرماتے ہیں جن میں رسالت حلال و حرام اور حق و باطل کا بیان ہے انہیں باطل عقیدوں مذموم اخلاق دور جاہلیت کی خباثتوں اور قبیح اعمال سے پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت(یعنی قرآن سنت اور فقہ یا شریعت کے احکام اور طریقت کے اسرار) کا علم عطا فرماتے ہیں اور بیشک لوگ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تشریف اوری سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے کہ شرک باطل عقائد اور خبیث اعمال میں گرفتار تھے اور انہیں کامل مرشد کی شدید حاجت تھی۔( خازن الجمعۃ تحت الایۃ: ۲ ۴ / ۲۶۴ مدارک الجمعۃ تحت الایۃ: ۲ ص۱۲۳۹ ملتقطا) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صفت’’ نبی امی ‘‘کی3 وجوہات: سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ایک صفت ’’نبی امی ‘‘ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں یہاں اس کی تین وجوہات ملاحظہ ہوں : (1)…آپ امت امیہ کی طرف مبعوث ہوئے ۔کتاب شعیاء میں ہے اللہ تعالی فرماتا ہے’’ میں امیوں میں ایک امی بھیجوں گا اور اس پر نبوت ختم کردوں گا۔ (2)… آپ کی بعثت ام القری یعنی مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ (3)…حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لکھتے اور کتاب سے کچھ پڑھتے نہ تھے اور یہ آپ کی فضیلت تھی کہ علم انتہائی یاد ہونے کی وجہ سے اس کی حاجت نہ تھی ۔خط ایک ذہنی صنعت ہے جو کہ جسمانی الہ سے صادر ہوتی ہے تو جو ذات ایسی ہو کہ قلم اعلی اس کے زیر فرمان ہو اس کو اس کتابت کی کیا حاجت پھر حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا کتابت نہ فرمانا اور(پھر بھی) کتابت کا ماہر ہونا ایک عظیم معجزہ ہے اپ کاتبوں کو لکھنے کا علم اور کتابت کے طریقے تعلیم فرماتے پیشہ وروں کو پیشوں کی تعلیم دیتے ہیں حتی کہ دنیا و اخرت کے ہر کمال میں اللہ تعالی نے اپ کو تمام مخلوق سے زیادہ علم والا بنایا ہے۔( خزائن العرفان الجمعۃ تحت الایۃ: ۲ ص۱۰۲۳ ملخصا) اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ کیا خوب فرماتے ہیں : فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضر بس قسم کھائیے امی تری دانائی کی ایت’’هو الذی بعث فی الامین رسولا منهم‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے پانچ باتیں معلوم ہوئیں : (1) … دل کی پاکی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نگاہ کرم سے ملتی ہے ایمان اور اعمال پاکی کے اسباب ہیں ۔ (2)… قران وحدیث اسان نہیں کہ ہر کوئی محض اپنی عقل سے سمجھ لے ورنہ ان کی تعلیم کے لئے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نہ بھیجے جاتے ۔ (3)… ہدایت کے لئے حدیث کی بھی ضرورت ہے۔ (4)… قران مجید کومحض اپنی عقل سے نہ سمجھا جائے بلکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعلیم سے سمجھا جائے ورنہ گمراہ ہو جائیں گے۔ (5)… تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دنیا میں کسی کے شاگرد نہیں کیونکہ اپ کی تشریف اوری کے وقت عام لوگ جاہل تھے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ کیا خوب فرماتے ہیں ایسا امی کس لئے منت کش استاد ہو کیا کفایت اس کو اقرا ربک الاکرم نہیں