Surah Al Juma Ayat 5 (62:5)
The Congregation, Friday · Juz 28 · Madani
مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاؕ-بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجن پر تورات کا بوجھ رکھا گیا پھر انہوں نے اس کا بوجھ نہ اٹھایاان لوگوں کی مثال گدھے کی مثال جیسی ہے جو کتابیں اٹھائے ہو، ان لوگوں کی کیا ہی بری مثال ہے جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanان کی مثال جن پر توریت رکھی گئی تھی پھر اُنھوں نے اس کی حکم برداری نہ کی گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا۔
Tafseer (Urdu)
{مثل الذین حملوا التورىة: ان کی مثال جن پر تورات رکھی گئی تھی ۔} اس سے پہلے والی ایات میں بیان فرمایا گیا کہ حضور اقد س صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم امیوں کی طرف بھیجے گئے ہیں یہودیوں نے اس پر یہ شبہ پیش کیا کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صرف عرب والوں کی طرف مبعوث ہوئے ہیں ہماری طرف مبعوث نہیں ہوئے اس پر اللہ تعالی نے یہاں ان کی ایک مثال بیان فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن پر توریت کے احکام کی پیروی کرنا لازم کیا گیاپھر انہوں نے توریت پر عمل نہ کر کے اس ذمہ داری کا بوجھ نہ اٹھایا اوراس میں مذکور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نعت و صفت دیکھنے کے باوجود اپ پر ایمان نہ لائےان لوگوں کی مثال گدھے جیسی ہے جو پیٹھ پرکتابیں اٹھائے اور بوجھ کے سواان سے کچھ بھی نفع نہ پائے اور جو علوم ان کتابوں میں ہیں ان سے اصلا واقف نہ ہو یہی حال ان یہودیوں کا ہے جو توریت اٹھائے پھرتے ہیں اس کے الفاظ رٹتے ہیں لیکن اس سے نفع نہیں اٹھاتے اور اس کے مطابق عمل نہیں کرتے ۔ان لوگوں کی کیا ہی بری مثال ہے جنہوں نے اللہ تعالی کی آیتوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالی ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو اس کے علم میں ظالم ہیں ۔( تفسیرکبیرالجمعۃتحت الایۃ: ۵ ۱۰ / ۵۳۹ خازن الجمعۃ تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۲۶۵ مدارک الجمعۃ تحت الایۃ: ۵ ص۱۲۴۰ ملتقطا) یہودیوں کو گدھے سے تشبیہ دینے کی وجوہات: اس ایت میں یہودیوں کو کسی اور جانور کی بجائے گدھے سے تشبیہ دی گئی اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ گھوڑے اور خچرکی بہ نسبت گدھے پرزیادہ بوجھ لاداجاتاہے ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ گدھے میں جہالت اورحماقت کامعنی دوسرے جانوروں کی بہ نسبت زیادہ پایاجاتا ہے ۔تیسری وجہ یہ ہے کہ عرف میں بھی دوسرے جانوروں کے مقابلے میں گدھے کوحقیرسمجھاجاتاہے ۔( تفسیر کبیر الجمعۃ تحت الایۃ: ۵ ۱۰ / ۵۴۰ ملخصا) قران مجید کو نہ سمجھنے اور اس پر عمل نہ کرنے والوں کی مثال: علامہ علی بن محمد خازن رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اس ایت میں توریت پر عمل نہ کرنے والے یہودیوں کی جو مثال بیان کی گئی یہ ان لوگوں پر بھی صادق آتی ہے جو قرآن کریم کے معانی کو نہ سمجھیں اور اس پر عمل نہ کریں اور اس سے اعراض کریں ۔( خازن الجمعۃ تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۲۶۵) لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ قران مجید کو سمجھنے کی کوشش کرے اور ا س کے دئیے ہوئے احکام پر عمل کرے تاکہ اس پر یہ مثال صادق نہ ائے۔ علم پر عمل نہ کرنے کی 5وعیدیں : یہاں علم پر عمل نہ کرنے کی 5وعیدیں بھی ملاحظہ ہوں : (1)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب پانے والا وہ عالم ہو گا جسے اس کے علم نے کوئی نفع نہ دیا۔( معجم صغیر باب الطائ من اسمہ: طاہر ص۱۸۲ الجزء الاول) (2)…حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اہل جنت میں سے کچھ لوگ اہل جہنم کے کچھ لوگوں کو دیکھ کر کہیں گے :تم جہنم میں کیوں داخل ہوئے حالانکہ ہم جنت میں اسی علم کے ذریعے داخل ہوئے ہیں جو ہم نے تم سے ہی سیکھا تھا وہ کہیں گے :ہم جو کہتے تھے وہ کرتے نہیں تھے۔( معجم الاوسط باب الالف من اسمہ: احمد ۱ / ۴۱ الحدیث: ۹۹) (3)…حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا ’’اے عویمر!اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب قیامت کے دن تم سے کہا جائے گا:تو نے علم حاصل کیا تھا یا جاہل رہے اگر تو نے یہ جواب دیا کہ میں نے علم حاصل کیا تھا تو تم سے پوچھا جائے گا:تو نے اپنے علم پر کتنا عمل کیااگر تو نے کہا :میں جاہل رہاتو تم سے کہا جائے گا:جاہل رہنے میں تمہارا عذر کیا تھا تم نے علم کیوں نہ حاصل کیا( ابن عساکر حرف المیم ۸۷۹۳- ابو محمد الکلبی ۶۷ / ۱۸۱) (4)…حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جو علم حاصل نہ کرے اور اس ادمی کے لئے بھی ہلاکت ہے جو علم حاصل کرے پھر ا س پر عمل نہ کرے ۔( کنز العمال حرف العین کتاب العلم قسم الاقوال الباب الثانی ۵ / ۸۶ الجزء العاشر الحدیث: ۲۹۰۳۶) (5)…حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’مجھے تم پر ہر علم والے منافق کا خوف ہے جو کلام حکمت والا کرے گا اور عمل گناہوں پر کرے گا۔( کنز العمال حرف العین کتاب العلم قسم الاقوال الباب الثانی ۵ / ۸۶ الجزء العاشر الحدیث: ۲۹۰۴۰)