Surah Al Juma Ayat 8 (62:8)
The Congregation, Friday · Juz 28 · Madani
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: بیشک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو پس وہ ضرور تمہیں ملنے والی ہے پھر تم اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو ہر غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال بتادے گا ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تو ضرور تمہیں ملنی ہے پھر اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم نے کیا تھا۔
Tafseer (Urdu)
{قل ان الموت الذی تفرون منه: تم فرماؤ: بیشک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو ۔} یعنی اے حبیب ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان یہودیوں سے فرما دیں :اپنے کفر کے وبال کی وجہ سے تم جس موت سے بھاگتے ہواس سے کسی طرح نہیں بچ سکتے بے شک وہ ضرور تمہیں انے والی ہے اور یہ بھاگنا تمہیں کوئی نفع نہ دے گا پھر مرنے کے بعد تم اس اللہ تعالی کی طرف پھیرے جاؤ گے جو ہر غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور ا س سے تمہارا کوئی حال چھپا ہوانہیں ہے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال بتادے گا (کہ تم نے دنیا میں کیا اعمال کئے تھے اوروہ تمہیں ان اعمال کی سزا دے گا)۔( تفسیر کبیر الجمعۃ تحت الایۃ: ۸ ۱۰ / ۵۴۱ روح البیان الجمعۃ تحت الایۃ: ۹ ۹ / ۵۱۹-۵۲۰ ملتقطا) قیامت کے دن اعمال بتائے جانے کی3 صورتیں : یاد رہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو اعمال بتا دئیے جانے کی مختلف صورتیں ہوں گیان میں سے تین صورتیں درج ذیل ہیں : (1)…اعمال نامے دکھا کر اعمال بتا دئیے جائیں گے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے : ’’و وضع الكتب فترى المجرمین مشفقین مما فیه و یقولون یویلتنا مال هذا الكتب لا یغادر صغیرة و لا كبیرة الا احصىها-و وجدوا ما عملوا حاضرا-و لا یظلم ربك احدا‘‘(کہف:۴۹) ترجمہ کنزالعرفان: اور نامہ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس میں جو( لکھا ہوا) ہوگا اس سے ڈررہےہوں گے اورکہیں گے: ہائے ہماری خرابی! اس نامہ اعمال کو کیاہے کہ اس نے ہر چھوٹے اور بڑے گناہ کو گھیرا ہوا ہے اور لوگ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (2)…انسان کے اعضاء ا س کے اعمال کی گواہی دیں گے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’یوم تشهد علیهم السنتهم و ایدیهم و ارجلهم بما كانوا یعملون‘‘(النور:۲۴) ترجمہ کنزالعرفان: جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ دوسری ایت میں ارشاد ہوتا ہے: ’’الیوم نختم على افواههم و تكلمنا ایدیهم و تشهد ارجلهم بما كانوا یكسبون‘‘(یس:۶۵) ترجمہ کنزالعرفان: آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے ۔ (3)…زمین لوگوں کے اعمال بیان کر دے گیجیساکہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’ یومىذ تحدث اخبارها(۴) بان ربك اوحى لها‘‘(زلزال:۴۵) ترجمہ کنزالعرفان: اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی۔اس لیے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا۔