Surah Al Juma Ayat 7 (62:7)
The Congregation, Friday · Juz 28 · Madani
وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اُن اعمال کے سبب جو اُن کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے ان کوتکوں کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لا یتمنونه ابدا: اور وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے ۔} یعنی یہودیوں نے جو کفر کیا اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو جھٹلایا اس کی وجہ سے یہ کبھی موت کی آرزو نہیں کریں گے ۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے غیب کی خبر تھی جو سچی ثابت ہوئی کہ ایت میں جن یہودیوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ یہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے انہوں نے ہرگز موت کی تمنا نہیں کی۔ موت کی تمنا کرنے کا شرعی حکم: احادیث میں موت کی تمنا کرنے سے منع کیا گیا ہے چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی موت کی ارزو نہ کرے نیک شخص تو اس لئے کہ شاید وہ مزید نیکیاں کرلے اور گناہگار اس لئے کہ شاید وہ توبہ کرلے۔( بخاری کتاب المرضی باب تمنی المریض الموت ۴ / ۱۳ الحدیث: ۵۶۷۳) اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ تم میں سے کوئی نہ موت کی آرزو کرے نہ اس کے انے سے پہلے اس کی دعا کرے کیونکہ جب وہ مرجائے گا تو اس کا عمل ختم ہوجائے گا اور مومن کی عمر بھلائی ہی بڑھاتی ہے ۔( مسلم کتاب الذکر والدعائ۔۔۔ الخ باب کراہۃ تمنی الموت لضر نزل بہ ص۱۴۴۱ الحدیث: ۱۳(۲۶۸۲)) البتہ اگر مجبوری میں موت کی ارزو کرنی ہی پڑے تو حدیث پاک میں اس کا طریقہ بھی ارشاد فرمایا گیا ہے چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ تم میں سے کوئی آئی ہوئی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے پھر اگر کرنی ہی پڑ جائے تو یوں کہے:اے اللہ! عزوجل جب تک میرے لئے زندگی بہتر ہو تو مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت بہتر ہو تو مجھے موت دے ۔( بخاری کتاب المرضی باب تمنی المریض الموت ۴ / ۱۳ الحدیث: ۵۶۷۱) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : یہ حدیث گزشتہ(دونوں ) احادیث کی شرح ہے کہ بیماری و آزاری سے گھبراکرموت نہ مانگے اورجس طریقہ سے دعا کی اجازت دی گئی ہے نہایت ہی پیارا طریقہ ہے کیونکہ اس خیروشرمیں دین و دنیا کی خیروشرشامل ہے گویا موت کی تمنا کہہ بھی لی مگر قاعدے سے۔(مراۃ المناجیح جنازوں کا باب باب موت کی ارزو اور اس کا ذکر پہلی فصل ۲ / ۴۲۱ تحت الحدیث: ۱۵۱۳)یعنی مقصد بھی پورا ہوگیا اور ممانعت کے حکم پر بھی عمل ہوگیا۔ مزید فرماتے ہیں :موت کی آرزو اچھی بھی ہے اور بری بھیاگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کے لیے یا دنیاوی فتنوں سے بچنے کے لیے موت کی تمناکرناہے تو اچھاہے اور اگر دنیوی تکالیف سے گھبرا کرتمنائے موت کرے تو برا(ہے)۔( مراۃ المناجیح جنازوں کا باب باب موت کی ارزو اور اس کا ذکر پہلی فصل ۲ / ۴۲۰) {و الله علیم بالظلمین: اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔} اس ایت میں ظالم سے مراد کافر ہے یعنی اللہ تعالی کافروں کو خوب جانتا ہے اور وہ انہیں سخت سزا دے گا۔