Surah At Taghabun Ayat 14 (64:14)
The Mutual Disillusion · Juz 28 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْۚ-وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 14
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو اور اگر تم معاف کرو اور درگزرکرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بڑابخشنے والا،بہت مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو تمہاری کچھ بیبیا ں اور بچے تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھواور اگر معاف کرو اور درگزرکرو اور بخش دو تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{یایها الذین امنوا ان من ازواجكم و اولادكم عدوا لكم: اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں ۔} شان نزول: چند مسلمانوں نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بیوی اور بچوں نے انہیں روکا اور کہا :ہم اپ کی جدائی پر صبر نہ کرسکیں گے اپ چلے جاؤ گے تو ہم اپ کے پیچھے ہلاک ہوجائیں گے۔ یہ بات ان پر اثر کر گئی اور وہ ٹھہر گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے ہجرت کی تو رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو دیکھا کہ وہ دین میں بڑے ماہر اور فقیہ ہوگئے ہیں یہ دیکھ کر انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو سزا دینے کا ارادہ کیا اوریہ قصد کیا کہ ان کا خرچ بند کردیں گے کیونکہ وہی لوگ انہیں ہجرت سے مانع ہوئے تھے جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہجرت کرنے والے اصحاب علم وفقہ میں ان سے منزلوں آگے نکل گئے۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں ائندہ ایسے بیوی بچوں کی بات ماننے سے منع کیا گیا ان سے تعلق ترک کرنے سے بھی روکا گیا اور انہیں اپنے بیوی بچوں سے درگزر کرنے اور معاف کردینے کی ترغیب بھی دی گئی چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں کہ تمہیں نیک اعمال کرنے سے روکتے ہیں تو ان سے احتیاط رکھواور ان کے کہنے میں آکر نیکی سے باز نہ رہو اور اگر تم ان کی ایسی حرکت پر مطلع ہونے کے بعد انہیں معاف کردو اورانہیں ڈانٹنے سے درگزرکرو اور ان کی خطا بخش دو تو بیشک اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہےوہ تمہارے گناہ بخش دے گااور تمہاری خطاوں کو مٹادے گا۔( خازن التغابن تحت الایۃ: ۱۴ ۴ / ۲۷۶ مدارک التغابن تحت الایۃ: ۱۴ ص۱۲۴۸ ملتقطا) ایت ’’ان من ازواجكم و اولادكم عدوا لكم‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے چار باتیں معلوم ہوئیں (1)… جو بیوی بچے اللہ تعالی کی اطاعت نماز حج اور ہجرت سے روکیں وہ ایک اعتبار سے ہمارے دشمن ہیں کہ ہماری اخرت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دشمن وہی ہوتا ہے جو نقصان پہنچائےلہذا ان کی بات نہیں ماننی چاہیے ۔ یہ ایت ان لوگوں کے بارے میں اتری جن کو ان کے بال بچوں نے ہجرت کرنے سے روکا تھا حالانکہ ہجرت ان پر فرض تھی۔ (2)… ہمارا وہ رشتہ دار جو اللہ تعالی اور رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روکے وہ دشمن ہے اور وہ اجنبی اور غیر جوہمیں اللہ تعالی اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تک پہنچائے وہ ہمارا عزیز ہے۔ (3)… اللہ تعالی اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مقابلے میں کسی کی اطاعت نہیں ۔ (4)… بیوی بچوں کے قصور معاف کردینا اللہ تعالی کو محبوب ہے جو مخلوق پر رحم کرے گا خالق اس پر رحم فرمائے گا۔